اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 45

45 کرنے کی کوشش کرو۔تم اپنی مجلسوں میں ہی دیکھ لوذراسی بات پر عورتیں ایک دوسری سے اس طرح لڑتی ہیں کہ گویا انسان حیوان ایک جگہ جمع کئے ہوئے ہیں۔پس اپنے اخلاق اور عادات درست کرو ، جس مجلس میں جاؤ ادب اور تہذیب سے بیٹھو، ایک دوسری کیساتھ محبت اور الفت سے ملو ہنرمی اور پیار سے بات کرو،اگر کوئی سختی بھی کر بیٹھے تو صبر اور تحمل سے کام لو اور خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔خاتمہ تقریر یا اسلام کی تعلیم ہے جو مختصر طور پر اس وقت میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے اس پر عمل کرو تا مسلمان ہو۔جو اس پر عمل نہ کرے اُس کو کوئی حق نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔جاہل ماؤں کا ظلم بسا اوقات ہم نے دیکھا ہے کہ اگر باپ بچے پر نماز کے چھوڑنے یا کسی بداخلاقی کی وجہ سے سرزنش کرتا ہے تو جاہل ماں اُس کی طرف سے غصہ سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی ہے اور جو نہی کہ وہ باہر جاتا ہے بچے کو گلے لگا کر اس کے ساتھ آہیں بھرتی ہے اور اُس کی دلجوئی شروع کر دیتی ہے اور اس کے منہ سے ایسے الفاظ لکھتے ہیں جن سے انجان بچے کے ذہن نشین ہو جاتا ہے کہ اس کا باپ واقعہ میں بڑا ظالم ہے نماز جیسی بات پر اس نے ایسی سختی کی۔ہوتے ہوتے نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ ایک طرف ماں کی قدر اس کے دل سے جاتی رہتی ہے اور دوسری طرف باپ سے اطاعت کی رغبت کم ہوتے ہوتے آخر کار حقوق والدین ترک کر کے کفر الہی نتیجہ ہوتا ہے۔ابتداء میں تو یہ معمولی بات نظر آتی ہوگی مگر اس کا نتیجہ اخلاق و تقوی کی تباہی ہو جاتا ہے۔بچے کی سادہ فطرت راست گوئی کی طرف مائل ہوتی ہے اور اگر اس نے کوئی نقصان کر دیا ہے تو پوچھنے پر وہ صاف کہہ دے گا کہ اس نے کیا ہے۔مگر یہ مائیں ہی ہوتی ہیں جواُ سے سکھاتی ہیں کہ کہو میں نے نقصان نہیں کیا اور اس طرح وہ انہیں آگاہ کرتی ہیں کہ : نیا میں واقعات کے خلاف بہنا کوئی شئے ہے۔( خطبہ نکاح فرموده مصلح موعود ۲۰۔نومبر ۱۹۲۰ء) تقریر برموقع جلسہ سالانہ خواتین منعقد مسجد اقصی دسمبر ۱۹۲۱ بندوں کے لئے ترقی کے وسیع میدان دیکھو اللہ تعالیٰ نے بندوں میں بڑے ترقی کے سامان رکھتے ہیں۔جب انسان ترقی کرے تو بہت بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ خدا اس کے اندر سما جاتا ہے اور اس میں خدا کے رنگ دکھائی دینے لگتے ہیں تب خدا اس کی اکثر باتوں کو پوری کرتا ہے۔اگر وہ چاہتا ہے کہ