اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 429
429 اُس وقت سارے مدینے میں ایک گہرام مچا ہوا تھا اور عورتیں اپنے اپنے رشتہ داروں پر رورہی تھیں لیکن جعفر کا گھر سنسان پڑا تھا۔غرض اس فرق کو دیکھ کر آپ کے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ جعفر پر رونے والا کوئی نہیں۔آپ کے منہ سے اس فقرہ کا نکلنا تھا کہ صحابہ کے سرندامت کے مارے جھک گئے اور اُن میں سے کئی مجلس سے اُٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو گئے اور اپنی بہنوں اور بیویوں سے کہا تم یہاں کیا کر رہی ہو رسول کریم اللہ فرماتے ہیں کہ سب لوگ اپنے رشتہ داروں پر رور ہے ہیں لیکن جعفر کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں۔یہ بات سنتے ہی مدینے کی تمام عورتیں حضرت جعفر" کے گھر جمع ہو گئیں (اس وقت عربوں میں بین کرنے کا رواج موجود تھا اور ابھی تک اس کی ممانعت نہیں ہوئی تھی ) عورتوں نے زور زور سے رونا اور پیٹنا شروع کیا۔ان کے رونے کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا مد ینہ میں ایک کہرام بچ گیا ہے۔رسول کریم ﷺ نے یہ شور سن کر صحابہ سے پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ نے جو کہا تھا کہ جعفر کے گھر میں رونے والا کوئی نہیں آپ کے اس فقرہ کو سکر تمام مدینہ کی عورتیں جعفر کے گھر جمع ہوگئی ہیں وہ جعفر پر رورہی ہیں۔آپ نے فرمایا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا۔میں رونے کو پسند نہیں کرتا جاؤ اور ان کو منع کرو۔لیکن اب عورتیں بھی اس جذبہ کے ماتحت رورہی تھیں کہ رسول کریم مہینے کا بھائی شہید ہو گیا ہے۔اُن کے دلوں میں ندامت پیدا ہو چکی تھی کہ ہم اپنے خاوندوں اور بھائیوں پر تو رورہی تھیں لیکن رسول کریمہ کے بھائی پر رونے والا کوئی نہیں اس لئے یہ رونا محبت و عشق کا رونا تھا اور سچا جوش اس میں پایا جاتا تھا۔اتنے میں ایک صحابی وہاں آگئے اور کہا چُپ کرو چپ کرو۔روؤ نہیں کیونکہ اس طرح رونے کو رسول کریم ﷺے پسند نہیں کرتے۔عورتوں نے اُسے جواب دیا۔جا جا اپنے گھر بیٹھ۔رسول کریم کے کا بھائی شہید ہو جائے اور ہم نہ روئیں۔جب وہ عورتیں رونے سے باز نہ آئیں تو وہ صحابی رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ان کو بہت منع کیا لیکن وہ رونے سے باز نہیں آتیں۔آپ نے فرمایا جانے دو رو رو کر خود خاموش ہو جائینگی آپ نے اس موقع پر یہ الفاظ بیان فرمائے احث التراب على وجوههن۔کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالو۔مطلب یہ تھا کہ ان کو چھوڑ دو۔پنجابی میں بھی کہتی ہیں اس نوں کھیہہ کھان دے۔مطلب یہ کہ اس کو چھوڑ دے۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحابی کوئی زیادہ ذہین نہ تھے انہوں نے احث التراب علی وجوھھن۔کے الفاظ سنے اور واپس آگئے۔آ کر اپنی چادر میں مٹی