اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 413
413 سے ہمیں یہ پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے مردوں کے دل اور دماغ بنائے ہیں اس قسم کے عورتوں کے دل اور دماغ بنائے ہیں۔پس وہاں پہلی کا ذکر نہیں بلکہ مردوں اور عورتوں کا آپس میں تشابہ اور ملتے جلتے ہونے کا ذکر ہے۔لیکن جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے بعض دور ایسے آئے ہیں کہ مردوں نے عورتوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روکنے کی کوشش کی اور بعض دور ایسے آئے ہیں کہ عورتوں نے مردوں کو ان کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے بعض دور ایسے آئے ہیں کہ مردوں نے عورتوں کو ایک الگ مخلوق سمجھا اور بعض دور ایسے آئے ہیں کہ عورتوں نے مردوں کو ایک الگ وجود سمجھا لیکن قرآن کریم کے نزول سے یہ چیز مٹادی گئی اور قرآن کریم نے خَلَقَ مِنْهَازَوُ جَهَا کہہ کر اس تفاوت کو مٹادیا اور بتایا کہ عورتوں کی ویسی ہی ذمہ داریاں ہیں جیسی مردوں کی اور عورتوں میں ویسے ہی احساسات اور جذبات ہیں جیسے مردوں میں اور مرد اور عورت دونوں ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ مردوں کے کام اور قسم کے ہیں اور عورتوں کے کام اور قسم کے ہیں۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عورتیں مردوں کی ذمہ داریوں کو سمجھ نہیں سکتیں۔مردوں میں بھی کاموں اور پیشوں کا اختلاف ہوتا ہے۔کوئی تحصیلدار ہوتا ہے، کوئی تھانیدار ہوتا ہے، کوئی ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن باوجود ان کے پیشوں کے اختلاف کے ان کے احساسات ان کے جذبات اور ان کی ذمہ داریوں میں کوئی فرق نہیں جس طرح ان کاموں کے اختلاف کی وجہ سے ان کے احساسات اور ان کے جذبات ان کی ذمہ داریوں میں فرق نہیں پڑتا اسی طرح عورت کے کام کے اختلاف کی وجہ سے اس کی ذمہ داریوں اور اس کے احساسات اور جذبات میں فرق نہیں ہو سکتا۔اگر فرق ہے تو صرف تقسیم عمل میں ، کہ بعض قسم کے کام مرد کے سپرد ہیں اور بعض قسم کے کام صلى الله عورتوں کے سپرد ہیں لیکن ذمہ داری دونوں پر ہے۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ۔كُلكم رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ کہ تم میں سے ہر ایک اپنے فرائض کے متعلق اور اپنی ذمہ داریوں کے متعلق پوچھا جائے گا جس طرح گڈریے کا فرض ہے کہ وہ اپنی بھیڑوں کی حفاظت کرے اسی طرح ہر مرد اور عورت اپنے کاموں کے متعلق ذمہ دار ہے۔اگر عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی نگرانی کرے اور خاوند کے گھر اور مال کی حفاظت کرے تو اس سے انہی چیزوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔اگر مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بال بچوں کی