اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 411

411 سو سال پہلے آجائے۔اگر مردوں میں بھی وہی دیوانگی اور وہی جنون پیدا ہو جائے جس کا عورتوں نے اس موقع پر مظاہرہ کیا ہے تو ہماری فتح کا دن بہت قریب آ جائے۔عورتوں نے اس دیوانگی سے کام کیا ہے کہ اُن میں سے بعض کی شکلیں تک پہچانی نہیں جاتیں۔اُنہوں نے کھانے کی پرواہ نہیں کی۔انہوں نے آرام کی پرواہ نہیں کی اور ایسی محنت سے کام کیا ہے کہ میں سمجھتا ہوں اُن میں سے کسی کا تین سیر کسی کا چار سیر کسی کا پانچ سیر وزن کم ہو گیا ہے مگر مردوں نے عورتوں کے مقابلہ پر بہت کم کام کیا ہے۔جو قربانی عورتوں نے کی اس کا بھی دیکھنے والوں اور فریق مخالف کے نمائندوں اور پولنگ آفیسر پر بہت ہی گہرا اثر پڑا ہے۔جو عور تیں پولنگ آفیسر کی امداد کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے آئی تھیں وہ اس قدر متاثر ہوئیں کہ ان کے یہ الفاظ تھے کہ ہم نہیں سمجھ سکتیں کہ یہ جماعت کیسی ہے اور اس میں قربانی کی یہ روح کیسے پیدا ہوگئی ہے۔بعض عورتیں ایسی حالت میں ووٹ دینے کے لئے آئیں کہ ان کو بچہ ہونے والا تھا اور در روزہ شروع تھا۔بعض ایسی تکلیف کی حالت میں آئیں کہ ووٹ دیتے ہی وہ بیہوش ہو گئیں۔بعض ایسی تھیں کہ ان کو بچہ ہوئے صرف بارہ گھنٹے گزرے تھے کہ وہ اس حالت میں سٹر پچر پر لیٹ کر ووٹ دینے کے لئے آگئیں ،ایک واقعہ ہو تو انسان اسے نظر انداز کر سکتا ہے مگر یہاں تو ایک درجن سے زائد ایسی عورتیں تھیں کہ بعض کو در دوزه لگی ہوئی تھی اور وہ ووٹ دینے کے لئے آگئیں اور بعض ایسی تھیں کہ ان کو بچہ ہوئے چند گھنٹے گزرے تھے اور وہ ووٹ دینے کے لئے آ گئیں۔اور بعض عورتیں ایسی حالت میں ووٹ دینے کے لئے آئیں کہ وہ بیٹھ ہی نہ سکتی تھیں اُن کو ڈولی میں لایا گیا۔اور ایک رشتہ دار نے دائیں طرف سے اور دوسرے نے بائیں طرف نے اُن کو پکڑا ہو ا تھا کہ کہیں گر نہ پڑیں۔ایک درجن سے زیادہ مثالیں اس قربانی کی موجود ہیں۔اور اس قربانی کا اس قدر اثر تھا کہ وہ عورتیں جو مخالف پارٹی کی طرف سے بطور ایجنٹ کے تھیں وہ بھی عورتوں کی اس قربانی پر حیرت کا اظہار کر رہی تھیں۔عورتوں نے الیکشن میں قربانی کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس بات کی مستحق ہیں کہ اُن کے اس ذکر کو ہمیشہ تازہ رکھا جائے اور بار بار اس واقعہ کو جماعت کے سامنے لایا جائے۔انہوں نے بے نظیر قربانیوں اور نہایت اعلیٰ درجہ کی جاشاری کا ثبوت دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مردوں سے قومی کاموں میں آگے نکل گئی ہیں۔مردوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ قومی کاموں میں ست ہیں اور وہ قومی قربانی کے مفہوم کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔دین کے لئے قربانی کا ذکر آئے تو اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں