اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 410

410 دوست نے ذکر کیا کہ میرا دادا احمدی تھا لیکن باپ غیر احمدی۔میں نے خیال کیا کہ میرا دادا بزرگ آدمی تھاوہ ناحق پر نہیں ہو سکتا۔کوئی صداقت ضرور ہوگی جس کی وجہ سے اُس نے احمدیت کو قبول کیا۔چنانچہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا اور میں احمدی ہو گیا۔اب یہ نتیجہ اس کی تعلیم کا نکلا۔اگر غیر تعلیم یافتہ ہوتا تو خیال بھی نہ آتا۔خیال آتا تو ان پڑھ ہونے کے سبب سے کتب نہ پڑھ سکتا۔پس جماعت کو اس وقت سینکڑوں نہیں ہزاروں تعلیم یافتہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔صدر انجمن احمدیہ کے لئے بہت سے کارکنوں کی ضرورت ہے۔تحریک جدید کے لئے بہت سے کارکنوں کی ضرورت ہے علاوہ ان کے پانچ ہزارہ واقفین تجارت کی ضرورت ہے۔اور ہماری یہ ضرورت پوری نہیں ہو سکتی جب تک جماعت تعلیم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط نہ کرے۔ہماری جماعت میں اس قدر بی۔اے اور اہم۔اے ہونے چاہئیں کہ ہم پہلے اپنی ضرورت کو پورا کریں اور جو ہماری ضرورت سے بچیں وہ ہم گورنمنٹ کو دے سکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سُرعت کے ساتھ جماعت کی ترقی کے دروازے کھل رہے ہیں۔اور وہ چیز جو ہمیں ڈور نظر آتی تھی بہت جلد آنے والی ہے۔جس رنگ میں لوگوں میں بیداری اور توجہ پیدا ہورہی ہے وہ بتاتی ہے کہ یوسف گم گشتہ کی خوشبو آب آرہی ہے۔یہ ہماری ہی کو تا ہی اور غفلت ہوگی کہ ہم قافلہ نہ لے جائیں اور وہاں سے یوسف کو اپنے گھر نہ لے آئیں۔(مصباح فروری ۱۹۴۶ ص ۳ تا ۱۰) قادیان کی احمدی خواتین کے کام کی تعریف اور اظہار خوشنودی ایک خطبہ میں حضور نے فرمایا:۔فرموده ۱۵- فروری ۱۹۴۶ مردوں کے مقابلہ میں عورتوں نے قربانی کا نہایت اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔گو حساب نہ جاننے کی وجہ سے ان سے بعض غلطیاں ہو میں لیکن اُن کا مجھے وقت پر پتہ لگ گیا اور میں نے ان غلطیوں کو دور کرنے کے متعلق ہدایات دیدیں جن کے مطابق انہوں نے نہایت تندہی اور محنت سے کام کیا۔میں سمجھتا ہوں کہ جو رُوح ہماری عورتوں نے دکھائی ہے اگر وہی روح ہمارے مردوں کے اندر کام کرنے لگ جائے تو ہمارا غلبہ