اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 34
34 == اپنا تعلق اور رشتہ بڑھائے۔خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں سب تعلقات پیچ سمجھو سب سے اعلی تعلق انسان سے خدا تعالی کا ہے۔ماں باپ کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے تعلق کے مقابلہ میں وہ بھی بیچ ہے۔ایک ماں کا بچہ سے یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ اُسے نو ماہ تک اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی خبر گیری کرتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا تعلق اس سے بہت زیادہ ہے۔خدا تعالی نے انسان کو پیدا کیا ہے ماں نے پیدا نہیں کیا۔پھر ماں جن چیزوں کے ذریعے بچہ کی پرورش کرتی ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوتی ہیں ماں کی پیدا کردہ نہیں ہوتیں۔کہتے ہیں ماں نے بچہ کو دودھ پلایا ہوتا ہے اس لئے اُس کا بڑا حق ہوتا ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں ماں کہاں سے دودھ پلاتی ہے کیا وہ خدا تعالی کا پیدا کردہ نہیں ہوتا ؟ پس اگر ماں نے بچہ کو دودھ پلایا ہے تو خدا تعالیٰ نے دودھ بنایا ہے۔پھر ماں بچہ کو کھانا کھلاتی ہے مگر ماں کا تو اتنا ہی کام تھا کہ کھانا پکا کر کھلا دیتی۔جب اُس کا بچہ پر اتنا بڑا احسان ہے تو خدا تعالیٰ جس نے کھانا بنایا اس کا کس قدر احسان ہوگا ؟ پھر بچہ جوان ہو کر ماں باپ کی خدمت کرتا ہے اور اُن کو کھلاتا پلاتا ہے لیکن خدا تعالی کو اس قسم کی کوئی احتیاج نہیں ہوتی۔پھر ماں باپ کا تعلق مرنے سے ختم ہو جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کا تعلق مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔پس ماں باپ کا تو بچہ سے ایسا تعلق ہوتا ہے جسے راہ چلتے مسافر کا تعلق اس درخت سے ہوتا ہے جس کے نیچے وہ تھوڑی دیر آرام کرتا ہے لیکن خدا تعالی کا تعلق ایسا ہوتا ہے کہ جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔تو خدا تعالیٰ کا انسان سے بہت بڑا اور عظیم الشان تعلق ہے مگر افسوس کہ لوگ دنیا کے رشتہ دوروں کا تو خیال رکھتے ہیں لیکن خدا تعالی کی کوئی پروا نہیں کرتے۔عام طور پر عورتیں جھوٹ بول لیتی ہیں کہ اُن کے مرد خوش ہو جائیں اور یہ خیال نہیں کرتیں کہ اللہ تعالی کا اُن سے جو تعلق ہے اُس کو اس طرح کسی قدر نقصان پہنچ جائے گا۔اسی طرح دنیا کی محبت میں اسقدر منہمک ہو جاتی ہے کہ جب بچہ پیدا ہو جائے تو بچہ کی صحبت کی وجہ سے نماز میں سست ہو جاتی ہیں اور اکثر تو نماز چھوڑ ہی دیتی ہیں۔روزہ کی کوئی پروا نہیں کرتیں حالانکہ انہیں خیال کرنا چاہیئے کہ بچہ کی حفاظت اور پرورش تو ہم کرتی ہیں لیکن خدا وہ ہے جو ہماری حفاظت اور پرورش کر رہا ہے۔برادری کی رسوم کو شریعت پر ترجیح نہ دو۔پھر کئی قسم کی رسمیں اور بدعتیں ہیں جن کے کرنے