اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 334
334 لیکن یہ ضرور جھوٹ ہو گا کہ تم اُسے اصل جگہ چُھپا کر دوسری جگہ بتاؤ۔پس آج تمام احمدی عورتیں کان کھول کر سُن لیں کہ عورت کی بیعت میں یہ عہد شامل ہے۔اور جو جھوٹ بولے گی وہ خود اپنی بیعت کی شرط کوتوڑنے والی قرار پائے گی۔وَإِذَ امَرُّ وَبِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا پھر مومن کی یہ علامت بتلائی کہ جب وہ کوئی لغو بات دیکھتا ہے تو اُس کے پاس سے گزر جاتا ہے۔لیکن یہ بات نہایت ہی افسوس ناک ہے کہ عورت ہمیشہ لغویات کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔مثلاً بلا وجہ دوسری سے پوچھتی رہتی ہے کہ یہ کپڑا کتنے کالیا، یہ زیور کہاں سے بنوایا اور جب تک اس کی ساری ہسٹری معلوم نہ کر لے اُسے چین نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سُنایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے انگوٹھی بنائی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اُس نے تنگ آکر اپنے گھر کو آگ لگا دی۔لوگوں نے پوچھا کچھ بچا بھی ؟ اس نے کیا سوائے اس انگوٹھی کے کچھ نہیں بچا۔ایک عورت نے کہا تم نے یہ انگوٹھی کب بنوائی تھی ؟ یہ تو بہت خوبصورت ہے۔وہ کہنے لگی اگر یہی بات تم پہلے ہو چھولیتیں تو میرا گھر کیوں جاتا۔یہ عادت عورتوں سے ہی مخصوص نہیں بلکہ مردوں میں بھی ہے۔السلام علیکم کے بعد پوچھنے لگ جاتے ہیں کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جاؤ گے؟ کیا کام ہے؟ آمدنی کیا ہے؟ بھلا دوسرے کو اس معاملہ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ انگریزوں میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں کہ تو کہاں ملازم ہے؟ تعلیم کتنی ہے ؟ تنخواہ کیا ملتی ہے؟ وہ کبھی کریدنے کا خیال نہیں کرتے۔غرض عورتوں میں یہ لغویت انتہاء درجہ کی ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن لغو کام نہیں کرتا جن لوگوں کو بڑی باتوں کا خیال ہوتا ہے اُن کو چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی بھلا فرصت ہی کب ہو سکتی ہے۔اگر تمہیں دین کا فکر ہو اور تمہیں معلوم ہو کہ اسلام ایک خطر ناک مصیبت میں گھرا ہوا ہے تو تم کو دوسری طرف توجہ ہوہی نہیں سکتی۔تمہارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو تم کسی طرح چھین لے سکتی ہو۔اسی طرح آج جبکہ مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگی ہوئی ہے تم کس طرح یہ برداشت کر سکتی ہو کہ گوٹہ کناری میں مشغول رہو۔کیوں نہیں تم وہ وقت اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے وقف کر دیتیں اور کیوں تم وہی وقت دینی تعلیم کے لیے وقف نہیں کر دیتیں ؟ تمہارے دل مردہ ہیں جبھی تو خدا کے دین کی مصیبت تمہیں نہیں زلاتی اور تم لغو باتوں کی طرف متوجہ رہتی ہو۔