اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 27

27 دل کھولے، دُنیا سے بدیاں اور بُرائیاں دور ہوں، اللہ تعالیٰ کا نام دنیا میں پھیلے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نور آیا ہے لوگ اُس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔چندہ دیں اس کے علاوہ جہاں تک اُن سے ہو سکے مالی خدمت بھی کریں۔آنحضرت ﷺ جب مردوں سے چندہ لیا کرتے تھے تو عورتوں سے بھی وصول کرتے تھے اور یہ چندہ وہ اپنے لئے نہ لیتے تھے اور نہ اللہ کے پیارے اپنی ذات کے لیے مانگا کرتے ہیں۔اُن کا انتظام خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔تو نہ آنحضرت می نے اپنے لئے مانگا نہ آپ سے پہلے انبیاء نے اپنے لئے مالگا۔نہ اس زمانہ میں جس کو خدا تعالی نے مسیح موعود کر کے بھیجا اُس نے اپنے لئے کچھ طلب کیا اور نہ وہ جو آپ کے بعد کھڑے ہوئے انہوں نے ایسا کیا بلکہ سب دین کے لئے ہی مانگتے رہے اور میں بھی اس غرض کے لئے کہتا ہوں کہ جن عورتوں کو خدا تعالیٰ تو فیق دے وہ اُس کے راستہ میں اپنے مالوں سے دیں۔پچھلے دنوں میں نے مستورات کو چندہ دینے کی تحریک کی تو مجھے بتایا گیا کہ مرد عورتوں کو روپیہ نہیں دیتے بلکہ جس چیز کی ضرورت ہو وہ لا دیتے ہیں اس لئے وہ چندہ کہاں سے دیں لیکن یہ بات شریعت کے خلاف ہے۔آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا یہ طریق تھا کہ عورتوں کو اپنے مال میں حصہ دیا کرتے تھے۔اب بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔اور خواہ کتنی ہی تھوڑی آمدنی ہو اس سے عورتوں کو اُن کا حصہ دینا چاہئے۔پھر اس میں سے عورتیں خدا کی راہ میں دیا کریں اور اس بات کا ہرگز خیال نہ ہو کہ اس قلیل رقم سے کیا بنے گا۔خواہ ایک دمڑی دینے کی توفیق ہو تو وہی دیدی جائے۔اللہ تعالی اخلاص کو دیکھتا ہے نہ مال کو۔اگر کسی کے پاس صرف ایک روٹی ہو اور وہ اس کا ایک چوتھا حصہ خدا تعالی کی راہ میں دید ہے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ثواب کا ویسا ہی مستحق ہے جیسا کہ سوروپیہ والا پچیس روپے دے کر۔اس لئے تھوڑے مال کا خیال نہ کرنا چاہئیے۔ہاں نیت اور اخلاص کا خیال رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالی انہی کو دیکھتا ہے اور انہی کے مطابق اجر دیتا ہے۔عورتوں میں تبلیغ کریں پھر عورتوں کو چاہئے کہ تبلیغ کریں۔مرد عورتوں میں تبلیغ نہیں کر سکتے اس لئے یہ کام عورتوں کا ہی ہے۔انہیں چاہئے کہ غیر احمدی، ہندو، عیسائی وغیرہ عورتوں کو اسلام کی تعلیم بنائیں اور ایسی دلیلیں یا درکھیں جو انہیں تبلیغ کرتے وقت کام آئیں۔خواہ عورت ان پڑھ ہو تو بھی موٹی باتیں اپنے خاوند باپ، بھائی سے سیکھ لے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض ان پڑھ احمدی دین سے ایسی واقفیت پیدا کر لیتے ہیں