اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 318

318 تو وہ بہت بڑے بزرگ اور ولی اللہ تھے۔اُن کے بیٹے پیر افتخار احمد صاحب بچوں کے پالنے میں بڑے ماہر ہیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سلسلہ کے بہت بڑے رُکن تھے۔اُن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حضور ایک قرب حاصل تھا اور سلسلہ کے معاملات میں بہت غیرت رکھتے تھے۔اُس زمانہ میں تکلف اور آسائش وغیرہ کا خیال تو ہوتا ہی نہیں تھا۔پیر صاحب کے رہنے کے لئے ایک کوٹھری حضرت صاحب کے گھر میں تھی اور اُس کے اوپر والی کوٹھری میں مولوی عبد الکریم صاحب رہا کرتے تھے۔پیر صاحب کے بچوں کے رونے چلانے کی آواز آنے پر اُن کو غصہ آیا کرتا تھا اور اکثر پیر صاحب سے فرمایا کرتے تھے پیر صاحب آپ بھی کیسے ہیں بچوں کو چُپ کیوں نہیں کراتے مجھے تو اُن کے رونے کی آواز سے سخت گھبراہٹ ہوتی ہے جب ۱۹۰۵ ء میں زلزلہ آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام مع اپنے دوستوں کے باغ میں رہنے لگے تو ان دونوں کے جھونپڑے بھی پاس پاس تھے وہاں ایک دن مولوی صاحب نے پیر صاحب سے کہا " پیر صاحب ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کے بچے روتے ہیں اور آپ نے اُن میں سے ایک کو نہایت اطمینان سے کندھے سے لگایا ہوا ہوتا ہے اور دوسرے کو نرمی سے پچکارتے رہتے ہیں۔اگر میرے پاس ہوں تو ایسا نہ ہو سکے بلکہ مجھے تو یہ دیکھ کری گھبراہٹ ہوتی ہے پیر صاحب مسکرائے اور کہنے لگے میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ بچوں کو تو میں نے اٹھایا ہوتا ہے اور آپ کو یونہی گھبراہٹ کیوں ہوتی ہے۔تو بعض مرد ایسے ہوتے ہیں۔مگر بالعموم مردوں کو اگر بچے سنبھالنے پڑیں تو تھوڑی ہی دیر میں گھبرا جائیں۔مجھے تو پانچ منٹ بھی اگر بچہ رکھنا پڑے تو گھبرا جا تا ہوں۔لیکن محور میں کھانا پکانا، پڑھنا لکھنا سب کام کرتی ہیں۔اور بچوں کی نگہداشت سے اور اُن کے رونے چلانے سے ذرا نہیں کمبرا تیں۔اگرگھبر ابھی جائیں تو ذراسی چپت رسید کی اور ایک منٹ کے بعد پھر گلے لگا لیا۔غرض فطرتیں اللہ تعالیٰ نے مختلف رکھی ہیں۔اگر کوئی چاہے کہ دونوں کے فرائض بدل دئے جائیں تو دونوں اپنے کاموں میں ناقص رہ جائیں گے۔ہر ایک اپنا کام کر سکتا ہے۔جیسا کہ اگر کوئی ہاتھ کا کام پیر سے لینا چاہے یا پیر کا کام ہاتھ سے لینا چا ہے تو یہ ناممکن ہے۔بیسیوں کام ہاتھ کے ایسے ہیں جو پیر یا تو بالکل کر ہی نہیں سکے گا یا اگر کرنیکی کوشش کرے گا تو خراب کر دے گا۔دونوں کے کام مختلف ہیں اور علیحدہ علیحدہ کاموں کے لئے خدا تعالیٰ نے ہاتھ اور پاؤں بنائے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جہاں بعض باتوں میں مرد اور عورت میں اتفاق رکھا ہے وہاں دونوں کے مختلف کاموں