اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 286

286 ہو کر اُردو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کی کتابیں پڑھیں مگر ہماری عورتیں اُردو نہیں سیکھتیں۔اور اگر کچھ شدید پڑھ لیتی ہیں تو ناول پڑھنے شروع کر دیتی ہیں۔علم دین سیکھو، قرآن پڑھو، حدیث پڑھو، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں علم و حکمت کی باتیں لکھی ہیں ان سے مفید علم سیکھو، لی۔ائے ایم۔اے کی ڈگریاں لینی دین کے لئے مفید نہیں ہیں۔پچھلے سال ایک لڑکی جو بی۔اے میں تعلیم پاتی تھی اُسے کہا گیا کہ اپنی ہمجولیوں میں تبلیغ احمدیت کیا کرو اُس نے جواب دیا کہ میں آپس میں تفرقہ ڈالنا پسند نہیں کرتی مگر وہ عالم نہیں جاہل تھی۔آپ کیا فائدہ دیا اُسے ایسے علم نے ؟ اگر بعض باتیں سیکھنے کا نام علم ہے تو کیا بعض باتیں لوہاروں اور تر کھانوں کو نہیں آئیں ؟ علم کے معنے ہیں اپنے مطلب کی چیزوں کو حاصل کرنا۔ضرورت پوری کرنے والی شئے کا نام علم ہے۔ایک بی۔اے کو فوج میں بھرتی نہ کیا گیا اس لئے کہ وہ فوجی کرتبوں سے ناواقف تھا اور وہ فوجی لوگوں کا علم نہیں جانتا تھا۔ایک طبیب اگر موسیقی جانتا ہے تو اسے لائق کون کہے گا۔پس ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ ہمیں کن علوم کی ضرورت ہے ہمیں علم دین کی ضرورت ہے۔کوئی لڑکی اگر ایم۔اے پاس کر لے اور اس کو تربیت اولا د یا خانہ داری نہ آئے تو وہ عالم نہیں جاہل ہے۔ماں کا پہلا فرض بچوں کی تربیت ہے اور پھر خانہ داری ہے۔جو حدیث پڑھے ، قرآن کریم پڑھے وہ ایک دیندار اور مسلمان خاتون ہے۔اگر کوئی عورت عام کتابوں کے پڑھنے میں ترقی حاصل کرے تا کہ وہ مدرس بن سکے یا ڈاکٹری کی تعلیم سیکھے تو یہ مفید ہے کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت ہے لیکن باقی سب علم لغو ہیں۔میں کہتا ہوں بی۔اے، ایم۔اے ہو کر کرو گی کیا؟ میں اپنی جماعت کی عورتوں کو کہتا ہوں کہ دین سیکھو اور روحانی علم حاصل کرو۔حضرت رابعہ بصریہ یا عائشہ صدیقہ کے پاس ڈگریاں نہیں تمھیں دیکھو حضرت عائشہ نے علم دین سیکھا اور وہ نصف دین کی مالک ہیں۔مسئلہ نبوت میں جب ہمیں ایک حدیث کی ضرورت ہوئی تو ہم کہتے ہیں کہ جاؤ عائشہ سے سیکھو۔شیر محمد ایک یکہ بان ان پڑھ جاہل تھا مگر تبلیغ کرنے کا اُسے سلیقہ آتا تھا۔جب یکہ چلانے بیٹھتا تو ایک کتاب حضرت صاحب کی ہاتھ میں لے لیتا اور کسی پاس بیٹھے ہوئے کو کہتا کہ مجھے سناؤ۔اس طرح سے وہ تبلیغ کرتا تھا۔غرض جاہل ، ان پڑھ اگر مطلب کی مفید باتیں جانتا ہے تو وہ عالم ہے جاہل نہیں ہے۔حضرت