اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 273
273 تعالیٰ ہی سب سے بڑا غفور رحیم ہے۔کیا پھر تم بہت بڑے ہو یا اللہ بہت بڑاز بردست ہے۔اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگو وہ ضرور بخش دے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں حکم ہے اقامت نماز کا۔عورتیں جماعت سے نماز پڑھیں تو بہت بہتر ہو۔نماز با جماعت پڑھو تو ہزاروں طورت فائدے حاصل کروا کیلے نماز پڑھنا درست نہیں۔اگر عورتیں یہ عزم کریں تو کچھ مشکل نہیں اور نہ عورتوں کو کوئی ممانعت ہے۔عورتیں جماعت کر سکتی ہیں۔جماعت سے کوئی تکلیف نہیں نہ فرق صرف اتنا فرق ہے کہ ثواب ستر گنا زیادہ ملے گا اور اسی طرح روحانیت اور دین میں عورتیں زیادہ ترقی کر سکتی ہیں۔اسی طرح خرج اللہ تعالیٰ کے راہ میں کرنا ہے۔میں جماعت کی عورتوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے ساری دوسری عورتوں کی نسبت بہت زیادہ ایثار اور مالی قربانیوں میں حصہ لیا ہے ہماری بہنیں چندے دینے میں بہت بہادر ہیں مگر پوشیدہ طور سے دینا اور مخفی طور سے دینا بہت زیادہ ثواب رکھتا ہے ہمارے ملک میں جبر ادینے اور دکھلا کر دینے کی بہت زیادہ رسم ہوگئی ہے۔اس کی مثال اس عورت کی ہے جس نے ایک انگوٹھی دکھلانے کے لئے اپنا گھر جلا دیا تھا۔تو کسی غریب کی امداد کرو مگر وہ نر ا کرو اس میں تمہیں گھانا نہیں ہوگا نہ اللہ تعالی اسے ضائع کرے گا کیونکہ وہ تو دونوں جہاں کا مالک اور شہنشاہ ہے۔قرآن کریم کی پیشگوئیوں کو اگلے انبیاء بیان کرتے آئے ہیں اور گویا رشک کرتے آئے ہیں۔پھر کسقد رافسوس ہے کہ تم اس کی وحی سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔اس کے احکام کی تعمیل نہ کرو۔یادرکھو اس کی مخالفت سے سزا بھی عبرتناک ہوگی۔عورتیں اپنے آپ کو کمزور جانتی ہیں مگر یہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔مرد بھی تھکنے کی شکایت نہیں کرتے مگر عورتیں گاڑی تک چلنے سے بھی اپنی کمزوری اور نزاکت ہی ظاہر کرتی ہیں۔پھر افسوس یہ ہے کہ اپنی لڑکیوں کو بھی یہی سکھاتی ہیں یہ کوئی اچھی خوبی نہیں۔جن لوگوں کو ترقی کرنی ہوتی ہے وہ کبھی بھی اپنی کمزوریاں ظاہر نہیں کرتے۔جتنا انسان اپنے نفس پر جبر کرے وہ ترقی میں بڑھتا جاتا ہے۔تو دین میں روحانیات میں ترقی کرنے میں اپنے نفس پر جبر کرو۔پھر خود بخو دمشق ہو جائے گی۔دوسرں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے مسلمان قوم اس لئے سب قوموں سے پیچھے رہ چلی ہے۔مولانا اسمعیل شہید نے دوسروں کو شکست دینے کے