اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 140
140 کے انسان بننے کے بعد سب سے پہلا سلوک جو اللہ تعالیٰ نے کیا وہ یہ ہے کہ عَلَّمَ ادَمَ الَا سُمَاءَ كُلَّهدَ آدم علیہ السلام کو اشیاء کی حقیقت بتلائی گئی۔در حقیقت نام سے اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ کسی چیز کو پہنچاتا جائے اور پہچاننے سے مُراد ہوتی ہے کہ کسی چیز کی حقیقت معلوم ہو۔ایک چیز کو دوسری چیز کے مقابلہ میں اسی طرح پہچانا جاتا ہے کہ فلاں چیز میں یہ گن اور یہ یہ صفات ہیں اور فلاں میں یہ۔مثلاً آم اور خربوزہ ہے۔ان کی شکل اور مزے کے اختلاف سے ہی ان کو پہچانا جاتا ہے اگر ان کے گن اور صفات الگ الگ نہ ہوتے تو ان میں امتیاز نہ کیا جاسکتا۔یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں جو ابتدائی نام الہامی طور پر اشیا کے رکھے گئے ہیں وہ اُن اشیا کی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔پس عَلَّمَ آدَمَ الا سَمَاءَ کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ حضرت آدم پر حقیقت اشیاء ظاہر کی گئی۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارا فلسفہ، ساری سائنس اور ہر ایک چیز کے متعلق پورا پورا علم انہیں سکھایا گیا بلکہ جس قدر اس زمانہ میں کام چلانے کے لئے ضرورت تھی اس قدر اشیاء کے متعلق انہیں علم سکھایا گیا اور اس سے ظاہر ہو گیا کہ تمام علوم کی ابتداء الہام کے ذریعہ ہوئی ہے اور پہلی چیز جس کی بنیاد انسان کی پیدائش کے بعد رکھی گئی وہ علم ہے۔اور جس طرح خدا تعالیٰ نے ساری چیزیں ابتداء میں خود بنائی ہیں اور پھر اُن کی ترقی انسان کے سپرد کی ہے اسی طرح علم کی بنیاد خدا تعالی نے خود رکھی اور اس کی ترقی انسان کے سپرد کر دی جیسے پہلا آدم خدا تعالیٰ نے خود بنایا آگے ترقی انسانوں کے سپرد کر دی۔پہلے آگ اللہ تعالیٰ نے خود قائم کی اور انہیں آگے ترقی انسان نے دی۔یہی حال علم کا ہے۔پہلے علم خدا تعالیٰ نے دیا آگے اس میں ترقی انسان کرتے گئے ، اسے بڑھاتے گئے اور ہم برابر ابتداء سے اب تک دیکھتے چلے آتے ہیں کہ انسان علم میں ترقی کرتا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اس قسم کے بھی موجود ہوتے ہیں جو علوم کی قدر نہیں کرتے اور ایسے وجود بھی ابتداء سے ہی چلے آئے ہیں۔ایسے وجودوں کا نام ابلیس رکھا گیا ہے۔یعنی نا امیدی میں جتلا رہنے والا۔در حقیقت امید ہی تمام علوم کو بڑھانے اور ترقی دینے والی ہوتی ہے اور جتنی زیادہ امید ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ علوم میں ترقی کی جاسکتی ہے۔امید کا لفظ ہمیں دو باتیں چلاتا ہے۔ایک تو یہ کہ انسان کے لئے ترقیات کے رستے کھلے ہیں اور دوسری یہ کہ ہم ان ترقیوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔پس جب ہم امید کا لفظ بولتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ترقی کا رستہ کھلا ہے اور ہمیں بہت کچھ ملنا باقی ہے۔پھر یہ لفظ اس امر پر بھی دلالت کرتا ہے کہ جو