اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 134

134 موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ مسلمانوں کا لیڈر۔وہ کہتے میرا دل چاہتا ہے کہ اسے مسجد سے اٹھا کر نیچے پھینک دوں۔یہ کیوں روتا ہے۔اسنے کونسے گناہ کئے ہیں۔اسی طرح میاں عبدالسلام حضرت خلیفہ اول کے لڑکے جب دعا ہونے لگے تو رونے لگ جاتے۔حضرت مولوی صاحب روکتے اور فرماتے یہ اعصابی کمزوری ہے۔بڑا آدمی تو سمجھتا ہے کہ میری عمر کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا ہے مجھ سے کئی کوتاہیاں ہوئی ہیں خدا معاف کر دے اس لئے روتا ہے۔بچہ اگر اس رنگ میں روتا ہے کہ میری انگلی عمر اتھی اور اعلے ہو تو یہ جائز ہے۔اور اگر اس لئے روتا ہے ہے کہ اسکے گناہ بخشے جائیں تو وہ نقال ہے اُس نے گناہ ہی کب کئے ہیں کہ بخشوا تا ہے۔ہاں اگر اس کی یہ خواہش اور اُمنگ ہے کہ دین کا خادم بنوں اور اس پر اسے رونا آتا ہے تو جائز ہے۔کھیل میں اخلاق سکھانا پس بچوں کے لئے کھیلنا کودنا بہت ضروری ہے۔ہاں کھیل میں اخلاق سکھانا چاہئیں۔مثلاً یہی کہ کہا جائے کہ اگر کوئی گالی دے تو اس کو گالی نہ دی جائے۔اور پھر گروپ کے لڑکوں کے متعلق رپورٹ منگوائی جائے کہ کونسے لڑکے ہیں جنہوں نے گالی کا جواب گالی سے دیا۔اگر کوئی ہو تو اس سے تو یہ کرائی جائے۔اس طرح یہ کہ ہر ایک غریب اور مسکین کو مدد دیں اور اس قسم کے واقعات آکر سنا ئیں کہ اس طرح کے لڑکے کو مدد کرنے کا موقع ملا ہے مگر اس نے مدد نہیں کی۔مثلا کوئی چھوٹا بچہ ہے۔ادھر گائے آئی ہے لڑ کا پاس کھڑا تھا اسے چاہئے تھا کہ چھوٹے بچے کو پرے ہٹالیتا مگر اسنے نہ ہٹایا تو اس کی باز پرس کی جائے یا مثلاً کوئی برقع پوش عورت تھی جس پر جانور حملہ کرنے لگا تھا اور لڑ کا پاس کھڑا تھا مگر اسے بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے جنس رہا تھا تو اس کو بھی تنبیہہ کی جائے ایسے واقعات پر سرزنش کی جائے اور آئندہ کے لئے عہد لیا جائے کہ ایسانہ کریں گے اس طرح عملی طریق سے اخلاق سیکھ سکتے ہیں۔ان کی مثال طوطے کی سی ہوتی ہے جو کہتا ہے میاں مٹھو چوری کھانی ہے مگر نہ یہ جانتا ہے کہ میاں مٹھو کیا ہے اور نہ اسے یہ خبر ہوتی ہے کہ چوری کیا ہے۔عملی طریق سے اخلاق سکھانا میچوں کو اگر یوں کہا جائے کہ حاجتمند کی مدد کیا کرو تو کہیں گے ہاں کریں گے مگر انہیں یہ نہیں معلوم ہوگا کہ کیا کرنا ہے لیکن جب عملی طور پر انہیں سکھایا جائے گا اور ہوشیار لڑکے امداد دینے کے واقعات سنائیں گے تو