اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 133
133 کرنی چاہیئے۔حضرت اسمعیل شہید کے متعلق لکھا ہے وہ ایک جگہ گئے اور سنا کہ ایک سکھ ہے جو بہت تیرتا ہے اور کوئی مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ سن کر انہوں نے تیرنا شروع کر دیا اور آخر اس سے بڑھ گئے۔تو ہر کام میں مومن کو دوسروں کا مقابلہ کرنا چاہیئے۔بشرطیکہ وہ شریفانہ ہنر ہو یہ نہیں کہ کوئی مسلمان کسی ڈاکو سے بڑھ کر ہو جائے یا کسی چور سے بڑھ جائے بلکہ یہ کہ مثلاً کشتی لڑنا سواری کرنا، تیرنا وغیر ہ جسمانی طاقت کے کاموں میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔پس احمدی بچوں میں قوت اور بہادری پیدا کرنی چاہیئے۔انگریزوں میں یہاں تک احتیاط کی جاتی ہے کہ فٹ بال کھیلتے ہوئے یا کسی اور کھیل میں اگر کسی لڑکے کی ہڈی بھی ٹوٹ جائے تو بھی کھیل بند نہیں کریں گے۔اس کو کھیل کے میدان سے اٹھا کر علیحدہ لے جائیں گے اور کھیل برابر جاری رہے گا کیونکہ کھیل بند کرنے سے لڑکوں پر برا اثر پڑتا ہے اور ان کے دلوں میں خوف اور بد دلی پیدا ہوتی ہے۔اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ انگریزوں کی چھوٹی سی قوم دنیا پر حکومت کر رہی ہے مگر ہمارے ہاں اگر کسی کو کھیل میں معمولی سی چوٹ آجائے تو آئندہ کھیل کو بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تو تیرنا بہت اچھا ہنر ہے ہاں اس ڈھاب کا پانی اس قدر خراب ہے کہ اس میں بچوں کا تیر نا ان کی صحت کے لئے مضر ہے اس کا خیال رکھا جائے اور ایسے دنوں میں انہیں تیرنا سکھا ئیں جبکہ پانی صاف ہو۔مجھے یاد ہے جب بچپن میں مجھے تیر نا نہیں آتا تھا تو دوسروں کو دیکھ کر میرے دل پر بہت برا اثر پڑتا تھا کہ کیوں نہیں آتا۔اور حضرت مسیح موعود نے ہمیں تیرنے والوں کے سپر د کر دیا کہ تیرنا سکھائیں۔تو بچوں کو تیر ناضرور سکھانا چاہیئے۔بچوں کو کھلاڑی بنانا اور میرا تو دل چاہتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ روپیہ دے تو گھوڑے رکھے جائیں اور ان پر بچوں کو سواری سکھائی جائے اور وہ پورے پورے سوار ہوں لیکن جب تک اتنا مال نہیں ملتا بچوں کو دوسری کھیلوں کا کھلاڑی بنانا چاہیئے۔کیونکہ اچھے کھلاڑی کے اخلاق بھی اچھے ہوتے ہیں۔برخلاف اس کے جو بچے بچپن میں ان باتوں میں پڑتے ہیں جو بڑوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ بڑے ہو کر بالکل لکھتے ثابت ہوتے ہیں۔ایک شخص جو آب وکالت کرتا ہے اور سلسلہ سے اس کو کوئی تعلق نہیں رہا۔طالب علمی کی حالت میں بڑی لمبی لیسی نمازیں پڑھتا اور نمازوں میں اتنا رو تا کہ چیخیں نکل جاتیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم جن کے متعلق حضرت مسیح