اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 87

87 دیکھو ہمارے ملک میں ایک زمیندار جٹ عورت بھی کبھی یہ نہ کہے گی روٹی کھائی میں نے بلکہ وہ میں نے روٹی کھائی ہی کہے گی۔جو درست ہے۔لیکن جو اس ملک میں پیدا نہیں ہوئے ایک انگریز ، عرب یا ایرانی ضرور غلط بول دے گا جب تک وہ نحو سے واقف نہ ہوگا۔عربی زبان میں علم تو یہ بھی بتاتا ہے کہ زیر، زبر، پیش کا کیا مطلب ہے۔عربی زبان میں نے کو۔وغیرہ الفاظ کے قائمقام زیر اور زیرہی ہو جاتے ہیں اور ان سے ہی اُن کے مفہوم کا کام نکل آتا ہے۔علم التعلیم (1) گیارھواں علم۔زبان کے متعلق علم التعلیم ہے۔علم التعلیم سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کو سمجھانا کس طرح ہے۔لیکچر اور ہوتا ہے۔لیکچر کے ذریعہ ہم خیال بنانا ہوتا ہے مگر تعلیم سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جو کچھ ہمیں آتا ہے دوسروں کو سکھانا ہے۔لیکچر میں صرف متعلق کرنا ہوتا ہے۔تعلیم میں یہ مقصد ہوتا ہے کہ تفاصیل سے آ جائے اور دوسرا اس کو سیکھ جائے۔پھر اس علم التعلیم کے بہت حصے ہیں۔اور مختلف شائیں ہیں۔یہ ایک مستقل علم ہو گیا ہے۔علم الشعر (۱۲) بارھواں علم علم الشعر ہے۔اس علم میں یہ باتیں داخل ہیں کہ شعر کہنے کی فرض کیا ہے۔بھر میں کیا خوبی ہے اور شعر کتنی قسم کا ہوتا ہے۔علم اوزان الشعر (۱۳) تیرھواں علم علم اور ان الشعر ہے یعنی شعر کا وزن بیان کرنا۔علم اشعر میں جو قسم شعر کی بیان کی جاتی ہے۔اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ غزل ہے، رباعی ہے وغیرہ اور وزن شعر میں یہ بتایا جائے گا کہ شعر کا وزن درست ہے یا نہیں۔جب شعر کے اوزان کا علم آجاتا ہے تو جو لوگ شعر نہیں بنا سکتے وہ بھی بنا سکتے ہیں۔علم التشہیر (۱۴) چودھواں علم زبان کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ علم التشہیر ہے یعنی اشتہار دینے کا علم۔اس علم کی بھی بہت سی قسمیں اور شاخیں ہیں۔یورپ اور امریکہ میں اس علم کے مدرسے ہیں جہاں علم التشہیر سکھایا جاتا ہے۔اشتہار کیوں دینا چاہیئے کس طرح دینا چاہیئے ، کس قدر دینا چاہیئے۔یہاں لوگ اشتہار دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آج ہی آرڈر آنے شروع ہو جائیں مگر یورپ اور امریکہ میں لوگ اشتہار دیتے ہیں اور اس قدر دیتے ہیں کہ بعض اوقات سرمایہ کا بہت بڑا حصہ مال کے خریدنے کی بجائے اشتہار پر خرچ کر دیتے ہیں۔اس میں ایک حصہ عنوان ہے۔اس میں یہ بھی ہوتا ہے کہ اشتہار میں عنوان کس طرح قائم کیا