اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 81

81 میں دوسرے کی تردید دلائل سے ہوتی ہے۔دوسرا اصول علم کلام ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ معیار صداقت کیا ہے؟ کس طرح دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیئے یہ سب با تیں اصول علم کلام میں بیان کی جاتی ہیں۔سولہواں علم سیاست اسلامیہ ہے ، حکومت کا کیا انتظام ہو، رعایا اور حکومت کے کیا تعلق ہیں، حکومت پر عایا کے کیا حقوق ہیں اور رعایا پر کیا؟ یہ بہت وسیع علم ہے۔حکومت کس طریق سے کی جائے ، دوسری حکومتوں سے اس کے کیا تعلقات ہیں۔غرض یہ سولہ ۱۶ موٹے موٹے علوم ہیں اور ان کی شاخیں ملا کر تو بہت بڑی تعداد ان علوم کی ہو جاتی ہے۔دنیاوی علوم اگلے ہفتہ میں بیان کروں گا۔انشا اللہ ان ریز تقریر دوم حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ جلسه لجنہ اماءاللہ منعقده مؤرخہ ۱۱ - فروری ۱۹۲۳ ء میں نے پچھلے ہفتہ مذہبی علوم کے متعلق تقریر کی تھی اس میں مذہبی علوم کے نام اور ان کی مختصر کیفیت بیان کی تھی اور اس میں بتایا تھا کہ مذہبی علوم میں ان مختلف عنوانوں کے نیچے بحث کی جاتی ہے یا اس مذہب کی یہ حقیقت ہے۔میری غرض اس سے یہ نہ تھی کہ وہ علم کیا ہے اور کیسا ہے بلکہ صرف اتنا بتانا ہے کہ اس قسم کا ایک علم ہے اس مطلب کے بیان کرنے کے لئے جس قدر ضروری تھا بیان کیا اور اب بھی ایسا ہی کروں گا۔اس سے زیادہ بیان کرنا موضوع سے باہر لے جاتا ہے۔آج میرا منشاء یہ ہے کہ دنیاوی علوم کے متعلق بیان کروں کہ وہ کتنے قسم کے ہیں اور کیا کیا ہیں۔اور اگر کسی علم کی کوئی اندرونی تقسیم ہے تو وہ بھی بیان کروں کہ کن کن مسائل پر اس میں بحث ہوتی ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا اور آج بھی بتاتا ہوں کہ علم سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ بچے ہی ہوں۔بعض باتیں جہالت بھی ہوتی ہیں مگر عام طور پر وہ ایک علم کی ذیل میں آجاتی ہیں۔جس طرح مذاہب میں ( مذاہب ہی کہنا چاہیئے کیونکہ اصل میں تو ایک ہی مذہب ہے جو اسلام ہے ) میں نے ہندو مذہب اور دوسرے مذاہب کا ذکر کیا ہے حالانکہ میری غرض اس سے یہ نہ تھی کہ یہ مذاہب خدا