اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 433
433 جب تک تم یہ عزم نہیں کرتیں اس وقت تک تم احمدیت کے لئے مفید وجود ثابت نہیں ہوسکتیں۔تم پر جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا کرنے کی کوشش کرو تا کہ تم اللہ تعالے کے سامنے ایک کامیاب خادم کی حیثیت میں کھڑی ہو۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ تم اپنے اندر ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرو جس کو تم بھی اور تمھارے ہمسائے بھی اور باقی دنیا بھی محسوس کرے کہ اب تم میں ایک نئی روح پھونکی گئی ہے۔تم خود بھی دین سیکھو اور اپنی اولا دوں کو بھی دین سکھاؤ۔اگر تم خود دین نہیں سیکھوگی تو دوسری عورتوں کو تبلیغ کس طرح کرو گی۔تمھیں تبلیغ کا اس قدر شوق ہونا چاہئے۔اگر تمھیں ایک مکان میں رہتے رہتے ایک دو سال گزر جائیں اور تمھاری تبلیغ وہاں مؤثر ثابت نہ ہو تو تمھیں چاہیئے کہ اپنے بھائی یا اپنے خاوند سے کہو کہ اب کسی اور محلہ میں مکان ہوتا کہ ہم کسی دوسری جگہ چل کر احمد بیت کو پھیلائیں۔گی۔پس میں امید کرتا ہوں کہ وقت نکلنے سے پہلے تم اپنے نفسوں کی اصلاح کروگی اور اپنی آخرت کی فکر کرو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمھارے دلوں کی اصلاح کرے اور تمھاری جہالتوں اور بے ایمانیوں کو دور کرے تاکہ تم پکی مومن بن جاؤ۔اور ہمارے لئے بھی عزت کا موجب بنو۔اس کے بعد میں دعا کروں گا تم بھی میرے ساتھ شامل ہو جاؤ تاکہ تمھارے دلوں کے زنگ دور ہوں اور تم اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوکر پیش ہوسکو۔آمین جذبات صحیحہ کو بیدار کرو اور دین کی طرف توجہ دو مورخہ ۲۷ دسمبر ۱۹۴۶ کو خواتین کے جلسہ سالانہ میں حضور نے جو تقریر فرمائی اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے:۔حضور نے فرمایا۔لاؤڈ سپیکر کی موجودگی میں گو اس امر کی ضرورت نہیں کہ عورتوں میں الگ تقریر کی جائے لیکن ثانوی حیثیت کے لحاظ سے ضروری ہے کہ عورتوں میں بھی تقریر ہو جائے۔مردوں کا عورتوں میں رقم ہو جانے کا سوال اسلام نے رد کر دیا ہے۔ابظاہر یہ دو وجود نظر آتے ہیں مگر در حقیقت ایک ہیں۔مرد عورت کا رشتہ قانون کا نہیں محبت کا ہے۔ماں کو بچہ سے جو محبت ہوتی ہے وہ کسی سے سیکھتی نہیں۔اس کے لئے