اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 428
428 صلى الله زید نے اپنے باپ کو یہ جواب دیا تو رسول کریم ﷺ کا دل محبت سے بھر گیا اور آپ نے کھڑے ہو کر اعلان کیا لوگو سن لو۔آج سے زید میرا بیٹا ہے۔اس وقت تک ابھی معنی کی رسم جاری تھی اور اس کے امتناع کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔وہ لشکر جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اس کا افسر آ نحضرت ﷺ نے ان ہی زید کو مقرر کیا تھا۔مگر ساتھ ہی سید ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت زید کو لشکر کا سردار بناتا ہوں۔اگر زید لڑائی میں مارے جائیں تو ان کی جگہ جعفر" لشکر کی کمان کریں۔اگر وہ بھی مارے جائیں تو عبد اللہ بن روائح کمان کریں۔اگر وہ بھی مارے جائیں تو پھر جس پر مسلمان متفق ہوں وہ فوج کی کمان کرے۔جس وقت آپ نے یہ ارشاد فرمایا اُس وقت ایک یہودی بھی آپ کے پاس بیٹھا ہو ا تھا۔اُس نے کہا میں آپ کو نبی تو نہیں مانتا لیکن اگر آپ کچے نبی ہیں تو ان تینوں میں سے کوئی بھی زندہ بچ کر نہیں آئے گا۔کیونکہ نبی کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے۔وہ یہودی حضرت زید کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اگر تمھارا رسول سچا ہے تو تم زندہ واپس نہیں آؤ گے۔حضرت زید نے فرمایا میں زندہ آؤں گا یا نہیں آؤں گا اس کو تو اللہ ہی جانے مگر ہمارا رسول ضرور سچا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ یہ واقعہ بالکل اسی طرح پورا ہوا پہلے زید شہید ہوئے اور ان کے بعد حضرت جعفر نے لشکر کی کمان سنبھالی وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کے بعد حضرت عبداللہ بن رواغ نے لشکر کی کمان سنبھالی لیکن وہ بھی مارے گئے اور قریب تھا کہ لشکر میں انتشار پیدا ہو جاتا کہ حضرت خالد بن ولید نے بعض مسلمانوں کے کہنے سے جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔اللہ تعالے انے ان کے ذریعہ مسلمانوں کو فتح دی اور وہ خیریت سے لشکر کو واپس لے آئے۔جب یہ لشکر مدینہ پہنچا تو جو مسلمان جنگ میں شہید ہوئے تھے ان کے رشتہ داروں نے ان پر واویلا کرنا شروع کیا۔اس وقت رسول کریم ﷺ نے محسوس کیا کہ جعفر کے گھر میں سے چیخنے چلانے کی آواز میں نہیں آتی تھیں شاید اس وجہ سے کہ حضرت جعفر رسول کریم اللہ کے بھائی تھے اس لئے ان کے گھر والے شریعت کے زیادہ واقف تھے اور انہوں نے صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔یا اس وجہ سے کہ بوجہ مہاجر ہونے کے گھر میں صرف ان کی بیوی ہی تھیں اور کوئی ہمدرد نہ تھا۔