اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 35

35 کے لئے عورتیں مردوں کو مجبور کرتی ہیں اور کہتی ہیں اگر اس طرح نہ کیا گیا تو باپ دادا کی ناک کٹ جائے گی گویا وہ باپ دادا کی رسموں کو چھوڑنا تو پسند نہیں کرتیں۔کہتی ہیں اگر ہم نے رسمیں نہ کیں تو محلہ والے نام رکھیں گے لیکن خدا تعالیٰ ان کا نام رکھے تو اس کی انہیں پروانہیں ہوتی۔محلہ والوں کی انہیں بڑی فکر ہوتی ہے لیکن خدا تعالیٰ انہیں کافر اور فاسق قرار دے دے تو اس کا کچھ خیال نہیں ہوتا۔کہتی ہیں یہ ور تارا ہے اسے ہم چھوڑ نہیں سکتیں حالانکہ قائم خدا تعالیٰ ہی کا در تارا ر ہے گا باقی سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور انسان اگلے جہاں چلا جائے گا جہاں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے قیامت کا دن ایسا سخت اور خطرناک ہوگا کہ ہر ایک رشتہ دار رشتہ داروں کو چھوڑ کر الگ الگ اپنی فکر میں گرفتار ہوگا۔پس عورتوں کو چاہیئے کہ اس دن کی فکر کریں۔سب سے ضروری بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرو اور اس تعلق کو مضبوط کرو جو قیامت میں تمہارے کام آئے گا۔دنیا کے تعلق اور دنیا کی باتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔ہمارے پیشوا خاتم الانبیا کا اُسوہ حسنہ دیکھو جب محمد رسول اللہ علیہ آئے اور آکر کہا کہ خدا تعالیٰ ایک ہے اور کوئی اُس کا شریک نہیں ہے اُس وقت اُن کے سارے رشتہ دار بتوں کے آگے سجدے کرتے اور اُن کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے تھے۔اکثر عورتوں کو معدوم ہوگا کہ مجاوروں کا گزارہ لوگوں کی منتوں پر ہی ہوتا ہے۔احمدیت سے پہلے تم میں کئی عورتیں خانقاہوں پر جاتی ہوں گی یا جن کو احمدیت کی تعلیم سے ناواقفیت ہے اور جو اپنے مذہب میں کمزور ہیں ممکن ہے وہ اب بھی جاتی ہوں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ مجاوروں کی آمدنی انہی لوگوں کے زریعے ہوتی ہے جو وہاں جاتے ہیں۔تو مکہ والے بنوں کے مجاور تھے اُنہوں نے کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے جن پر لوگ دور دور سے آکر نذریں چڑھاتے تھے جنہیں وہ آپس میں بانٹ لیتے تھے۔یا لوگ بتوں کی پرستش کے لئے وہاں جمع ہوتے اور وہ تجارت کے ذریعہ اُن سے فائدہ اُٹھاتے تھے اس لئے بتوں کو چھوڑ دینے سے وہ سمجھتے تھے کہ ہم بھو کے مر جائیں گے۔رسول کریم ہے کے سارے رشتہ دار ایسے ہی تھے جن کا گزارہ بچوں پر تھا مگر رسول کریم ہے جب کھڑے ہوئے تو آپ نے کسی رشتہ دار کی پروا نہ کی اور بڑے زور کے ساتھ کہہ دیا کہ صرف خدا ہی ایک معبود ہے باقی سب معبود جھوٹے ہیں۔یہ بات آپ کے رشتہ داروں کو بہت بُری لگی اور انہوں نے تکلیفیں دینا شروع کر دیں۔ایک دن رسول کریم نے ایک پہاڑ پر چڑھ گئے اور لوگوں کو بلا یا جب لوگ آگئے تو کہا تم جانتے ہو میں جھوٹ بولنے والا