اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 412

412 لیکن قومی مفاد کو برقرار رکھنے کے لئے اگر کسی قربانی کا مطالبہ کیا جائے تو اس کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے۔مصباح مارچ ۱۹۴۶ ص ۱۶ تا ۱۷) فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین فرموده یکم اکتوبر ۱۹۴۶ جلسه لجنہ اماء اللہ وہلی ( بمقام ۸ یارک روڈ نئی دھلی ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں جہاں جہاں انسان کی پیدائش کا ذکر آیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے کہ پہلے ہم نے ایک نفس کو پیدا کیا پھر خَلَقَ مِنْهَا زَوْ چُھا پھر اس میں سے اس کا جوڑا پیدا کیا ، اس نفس سے جوڑا پیدا کرنے کے متعلق بائیل نے یہ تشریح کی ہے کہ حضرت آدم کی پسلی کو چیر کر اس میں سے عورت نکالی گئی لیکن قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ حضرت آدم کی پسلی کو چیر کر اس میں سے عورت کو پیدا کیا گیا بلکہ قرآن مجید کہتا ہے کہ خلق منھا زوجھا کہ اس نفس سے ہی اس کا جوڑا پیدا کیا ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی جنس سے ہی اللہ تعالیٰ نے عورت کو پیدا کیا۔مین کے معنی یہاں جنس کے ہیں۔جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَطِيْعُو اللَّهَ وَاَ طبعو الرسول وأولي الأمر مِنكُمُ کہ تم اپنے میں سے اُن لوگوں کو حاکم بناؤ جو تمھاری قسم میں سے ہیں۔اس جگہ کوئی شخص بھی بنگم' کے معنے یہ نہیں کرے گا کہ تم ان لوگوں کو حاکم بناؤ جو تمھاری پسلیوں میں سے چیر کر نکالے گئے ہیں اور منکم کا لفظ صاف بتاتا ہے کہ اس جگہ مُراد یہ ہے کہ جو لوگ تمھاری قسم کے ہوں۔جس قسم کے تمھارے حالات ہیں اسی قسم کے ان کے حالات ہیں اور جن چیزوں کی تھیں ضرورت ہے انہی چیزوں کی انہیں بھی ضرورت ہے۔وہ تمھارے جیسے انسان اور تمھارے سے جذبات ان میں بھی ہیں۔تمھاری ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ان کی حکومت کو تسلیم کرو اور خیالی حاکم نہ تلاش کرو کہ نہ ملیں گے نہ مفید ہوں گے۔قرآن کریم میں کثرت سے مِنھا اور مِنكُمُ کے الفاظ آئے ہیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ان چیزوں کو تمھاری پہلی کاٹ کر بنایا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس قسم کے تم ہو اسی قسم کے دو ہیں پس جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا کہ انسان کی قسم سے ہی اس کی بیوی کو پیدا کیا ، اس