اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 409

4096 انہوں نے اس نو مسلم کو معاف کر دیا۔پس عورتوں میں جذباتی رنگ غالب ہوتا ہے۔لجنہ اماءاللہ کا فرض تھا کہ وہ عورتوں کے سامنے بیان کرتی کہ آج اسلام کو ان کے نوجوان لڑکوں کی ضرورت ہے ، آج اسلام کو اُن کے خاوندوں کی ضرورت ہے، آج اسلام کو مالوں کی ضرورت ہے اور اُن کا فرض ہے کہ وہ ہر چیز بلا دریغ پیش کر دیں۔اگر یہ طریق اختیار کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ لوگ جو ایمان میں کمزور تھے وہ بھی اسے اخلاص کا نمونہ پیش کرتے۔ایک شخص نے مجھے بتایا کہ مجھے تو میری بیوی نے پختہ احمدی بنایا ہے۔جب میں تنخواہ لے کر آتا تو وہ مجھے کہتی کہ کیا آپ چندہ دے آئے ہیں۔میں کہتا کل دیدوں گا تو وہ کہتی اس مال سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔اس پر بسا اوقات مجھے آدھی آدھی رات کو جا کر چندہ دینا پڑا۔اور جب میں رسید دکھا تا تب وہ کھانا پکاتی نہیں تو کہہ دیتی کہ میں حرام روپیہ سے کھانا نہیں پکاؤں گی۔پس اگر عور تیں ہمارا ساتھ دیں اور وہ بچوں سے کہیں کہ اگر تم وقف نہ کرو گے ، اگر تم اپنے اندر دینداری پیدا نہ کرو گے تو میں تمھیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی اور میں خدا سے کہوں گی کہ اس نے میرا حق ادا نہیں کیا۔میرا بیٹا میرا سا ہے اس نے میرا کہنا نہیں مانا تو تھوڑے ہی عرصہ میں کایا پلٹ سکتی ہے۔اگر مائیں یہ طریق اختیار کریں تو نانوے فیصدی لڑکوں کی اصلاح ہو جائے اور نانوے فیصدی لڑکے تعلیم میں تیز ہو جائیں اور ان کے اندر بیداری اور قربانی کی رُوح پیدا ہو جائے۔میں اس موقع پر جماعت کی عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے لڑکوں کو تحریک کریں کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف کریں۔اور جن لڑکوں کو سلسلہ قبول نہیں کرتا ان کو تحریک کریں کہ اپنے خرچ سے بچا ہوا رو پنیا اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے دیں۔اگر ان کے لڑکے اس کام کے لئے تیار نہ ہوں تو ہر ماں کا فرض ہے کہ وہ اپنے بیٹے سے کہہ دے کہ تم نے میرا حق ادا نہیں کیا اور میں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمھارے متعلق کہہ دوں گی کہ یہ میرا نا فرمان بیٹا ہے اس نے میرا کہا نہیں مانا۔میں دیکھتا ہوں کہ سلسلہ کے کاموں کو عظیم الشان طور پر چلانے کا وقت آ گیا ہے لیکن ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک عورتیں ہمارے ساتھ تعاون نہ کریں۔جس دن عورتیں یہ طریق اختیار کرلیں گی تم سمجھ لو کہ لڑکوں کی اصلاح کرنا بہت آسان ہو جائے گا اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں بیداری سے کام کرنے لگیں گے۔پس تعلیم کی ترقی ہماری جماعت کے لئے از حد ضروری ہے۔تعلیم انسان کو صحیح راستہ تلاش کرنے اور حقیقت کے سمجھنے میں بہت مدد دیتی ہے۔اور جو کام بھی انسان کرے اس کے لئے اس میں آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ایک