اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 399

399 کے علاوہ کسی اور موقع پر اپنا ایک دوسرا اجتماع کیا کریں اور ہندوستان کی تمام لجنات کی طرف سے نمائندہ عورتیں اس اجتماع میں شامل ہو کر اپنے کاموں پر غور کریں اور ایسے قواعد مرتب کریں جن سے وہ مزید ترقی کر سکیں۔لجند مرکز یہ کو چاہیئے کہ اس موقع ( جلسہ سالانہ ) پر جو عورتیں باہر سے آئی ہوئی ہیں اُن سے مل کر مشورہ کرے کہ وہ اجتماع کس موقع پر رکھا جائے۔اگر وہ اجتماع مجلس شوری کے موقع پر رکھ لیا جائے اور تمام لجنات کی مختلف کاموں کی سیکرٹریوں کو اس موقع پر بلا لیا جائے تو شاید میں بھی اس موقع پر وقت نکال کر انہیں ہدایات دے سکوں کہ وہ کس طرح اپنے کام کو متکلم بنا سکتی ہیں۔جب وہ منظم ہو جائیں گی تو پھر ان کی اصلاح کے لئے اگلا قدم یہ اٹھایا جائے گا کہ ہر ایک عورت اپنی مروجہ زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھ لے۔درحقیقت جس قوم کو اپنی زبان میں لکھنا اور پڑھنا آ جائے اس کے لئے باقی سارے علوم حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔جس کو ہم منطق یالا جک کہتے ہیں۔یہ وہی چیز ہے جو ہر مرد اور ہر عورت روزمرہ کی بول چال میں استعمال کرتے ہیں۔جب تم کسی کی بیوقوفی پر ہنستی ہو تو اس کی یہی وجہ ہوتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ تم اس کی بات کو غیر منطقی یا آن لاجیکل سمجھتی ہو۔جب تم کسی بات پر کہتی ہو کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی یا یہ بات خلاف عقل ہے تو اسی کا نام غیر منطقی یا آن لاجیکل رکھ کر تمھیں ڈرایا جاتا ہے۔ورنہ وہ کوئی اور علم نہیں جو مردوں کو آتا ہے اور تمھیں نہیں آتا۔بلکہ یہ وہی چیز ہے جو تم روز مرہ کی بول چال میں استعمال کرتی ہو۔اسی قسم کی ہزار ہاہا تیں ہیں جن کا نام تم غیر زبان میں سن کر حیران اور مرعوب ہو جاتی ہو۔ورنہ وہ کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔وہی چیز ہوتی ہے جو عام بول چال میں پائی جاتی ہے۔پس اگر تم اپنی اُردو زبان میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لوتو ان تمام باتوں کو تم آسانی سے سمجھ سکتی ہو اور ہر علم سے فائدہ اٹھا سکتی ہو۔اور آج جن علوم کے بڑے بڑے نام رکھ کر تمھیں مرعوب کیا جاتا ہے اُردو جان لینے پر ان تمام باتوں کا سمجھناتمھارے لئے بالکل معمولی معلوم ہوگا۔پس لجنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ جب اُن کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے۔پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ نماز ، روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دئے جائیں۔اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ اُن کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر اُن کو یہ علم نہ ہو کہ وہ