اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 392
392 لئے نہ لگاؤ گی اُس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے دو حصے کر کے اس کے اندر الگ الگ جذبات پیدا کئے ہیں۔عورت مرد کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتی اور مرد عورت کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا پس چونکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات پہنچانے سے قاصر ہیں اس لئے مردوں کی صحیح تربیت مردہی کر سکتے ہیں اور عورتوں کی صحیح تربیت عورتیں ہی کر سکتی ہیں۔ہم عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکتے۔ہمارے دلوں میں تو مردوں والے جذبات ہیں عورتوں کے دکھ اور اُن کی ضروریات عورتیں ہی سمجھ سکتی ہیں اور وہی اُن کے شکوک کا ازالہ اور اُن کی مشکلات کا حل اور ان کی صحیح اصلاح کر سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید فرماتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے وہی مذہب مفید ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔اگر انسان مذہب بنائے گا اور اس کر سب کا بنانے والا مرد ہو گا تو وہ صرف مردوں کے جذبات اور مردوں کے خیالات کو ہی ملحوظ رکھے گا وہ ورنتو ریا کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گا۔اور اگر اس مذہب کو بنانے والی دارت ہوگی تو وہ صرف عورتوں کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کو ملحوظ رکھ سکے گی اور مردوں کے جذبات اور مردوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گی۔پس اس خلیج کو جومرد اور عورت کے درمیان حائل ہے اگر کوئی وجود پاٹ سکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ ہی ہے۔اور وہی مذہب ساری دنیا کے لئے مفید ہوسکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے مردوں کو بھی پیدا کیا ہے اور عورتوں کو بھی اور جو عورتوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اور مردوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے ، جو عورتوں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے اور مردوں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے اور مردوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کے جذبات کو بھی سمجھتا ہے اور مردوں کے جذبات کو ہی جانتا ہے، قرآن مجید میں آتا ہے۔مَرَجُ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيْنِ بَيْنَهُمَا بَرْ رَحْ لَا يَبْغِيْنِ۔کہ اس دنیا میں دو دریا پاس پاس اور اکٹھے بہتے ہیں مگر باوجود پاس پاس اور اکٹھے بہنے کے وہ آپس میں ملتے نہیں۔یہ انی مرد اور عورت ہی ہیں جو ایک دوسرے کے پاس پاس رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے اُن کو محبت اور پیار بھی ہوتا ہے۔بہن بھائی سے محبت کرتی ہے اور بھائی بہن سے محبت کرتا ہے۔خاوند بیوی سے محبت کرتا ہے اور بیوئی خاوند سے محبت کرتی ہے۔یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کی خاطر بعض دفعہ اپنی جانیں بھی قربان