اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 389
389 رہنے کے قابل بناتا ہے وہی انسان صحیح معنوں میں آدمی ہے۔اور جو لوگ غفلت کی وجہ سے گھر میں بیٹھے کھیاں مارتے ہیں اور محنت نہیں کرتے۔یا بعض امراء اور عیاش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے باپ دادا کی کمائیاں کھاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے وہ آدمی تو ہیں مگر صرف نام کے۔کام کے آدم نہیں۔کیونکہ آدم کے معنے ہیں جو باہر نکل کر کام کرے اور زمین کی درستی کر کے اُسے رہنے کے قابل بنائے۔اسی طرح وہ عورتیں جو گھر کی خبر گیری نہیں کرتیں، بچوں کی تربیت نہیں کرتیں، گھر کے تمام سامانوں کا انتظام نہیں کرتیں اور اپنی اولاد کی تربیت اس رنگ میں نہیں کرتیں کہ آئندہ نسل نیک متقی ، بہادر اور جری اور دین کی خاطر ہر طرح کی قربانی کرنے والی اور دین کا علم حاصل کرنے والی ہو۔وہ اور ہیں۔حوا کی بیٹیاں صرف نام کی ہیں کام کی نہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے ارد گرد جمع نہیں کیا اور صحیح طور پر گھر کی مالکہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا۔اور جیسا کہ گھر کی مالکہ کا حق تھا بچوں کی بہتری اور ان کی تربیت کا خیال رکھے اس حق کو ادا نہیں کیا۔اور اولاد کی نگرانی کا جو ان پر فرض تھا اس فرض کو ادا نہیں کیا۔پس وہ عورت جو بچوں کو اپنے ارد گرد جمع کر کے اُن کی بہتری اور ان کی تربیت کے سامان نہیں کرتی اور گھر کے کاموں کی نگرانی نہیں کرتی وہ تو ہے مگر صرف نام کی نہ کہ کام کی۔پس اگر ایک عورت ھوا کی حقیقی بیٹی کہلانا چاہتی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ گھر کے انتظام کو درست رکھے ، اولاد کی صحیح تربیت کرے، ایسی تربیت کہ وہ گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق ہو۔مالک کے یہ معنے ہیں کہ اس کے ماتحت اس کے فرمانبردار ہوں۔لیکن اگر ایک عورت بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں کرتی تو اولادنا فرمان ہوگی کیونکہ صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں یہ عادت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بات نہیں مانتے اور پھر اُن میں بدی کی عادت ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔کہتے ہیں ایک آوارہ گر دلڑکا تھا۔اس کی ماں اس سے محبت کرتی تھی۔جو محبت غلط قسم کی تھی۔وہ اس کو کسی بُرائی سے نہیں روکتی تھی۔شروع شروع میں جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی چوری کرتا تو وہ اُسے منع نہ کرتی۔اور اگر کوئی اس کی ماں سے شکایت کرتا تو کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو ایسا نہیں۔یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اُس نے بڑی بڑی چوریاں شروع کر دیں اور قتل و غارت تک نوبت پہنچی۔آخر کسی کوقتل کرنے کے جرم میں پکڑا گیا اور اس کو پھانسی کی سزا ملی۔جب پھانسی کا وقت قریب آیا تو حکام نے کہا اگر تمہاری کوئی خواہش ہویا