اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 29

29 لئے اُن کو اپنے اعمال کا کوئی بدلہ نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا قرآن میں تو صاف لکھا کہ کسی مومن مرد و عورت سے عمل کو ضائع نہیں کیا جائے گا بلکہ اُس کا بدلہ دیا جائے گا تم نے یہ کہاں سے نکالا کہ عورت میں روح ہی نہیں ؟ عیسائی عورت نے کہا قرآن میں یہ بات موجود ہے تم کو علم نہیں۔انہوں نے کہا میں تمہارے سامنے قرآن کریم کی آیت پیش کر رہی ہوں اور تم کہتی ہو تمہیں علم نہیں۔اگر کوئی ایسی آیت قرآن کریم میں ہے تو نکال دیجیئے۔اُس نے کہا اگر تم لکھنو آؤ تو میں تمہاری تسلی کر سکتی ہوں۔انہوں نے کہا اگر تم قادیان آؤ تو میں تمہیں سمجھانے کی کوشش کروں گی۔پھر اُس نے کہا تم نوجوان ہو اور میں بوڑھی ہو گئی ہوں اس لئے تمہاری باتوں کا جواب نہیں دے سکتی۔اُنہوں نے کہا اس لحاظ سے تو آپ کو ضرور جواب دینے چاہئیے تھے کیونکہ آپ نے بہت سی مردہ ہی باتوں میں گزاری ہے۔مگر وہ خاموش ہوگئی اور کوئی جواب نہ دے گی۔توریل میں عورتوں کو تبلیغ کا اچھا موقع مل سکتا ہے اور کسی جگہ تو شاید ہی اتنی عورتیں جمع ہو سکیں جتنی گاڑی میں ہوتی ہیں اور مختلف جگہوں کی ہوتی ہیں۔اگر اُن میں سے کسی کو ہدایت ہو جائے تو وہ اس کے اثر کو دُور دُور پھیلا سکتی ہے۔پھر گھروں میں یا عورتوں کے مجمع میں موقع مل سکتا ہے اس لئے موٹے موٹے مسائل یاد کر لینے چاہئیں۔تقویٰ حاصل کرنا اس کے علاوہ تقویٰ اللہ حاصل کرنا ایک نہایت ضروری چیز ہے کیونکہ اسلام صرف باتیں سُنانے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ کہتا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کا خوف اور محبت اپنے دل میں پیدا کرنی چاہیئے اس لئے یہ نہایت ضروری ہے اور جب تک یہ نہ ہو کوئی عمل عمل نہیں کہلا سکتا۔نماز ، نماز نہیں کہلا سکتی ، روزہ ، روزہ نہیں کہلا سکتا، زکوۃ، زکوۃ نہیں کہلا سکتی ، حج ، حج نہیں کہلا سکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ نماز اس غرض کے لئے نہیں رکھی گئی کہ انسان کی ورزش ہو، روزہ اس لئے نہیں کہ انسان کو بھوکا پیاسا رکھا جائے ، زکوۃ اس لئے نہیں کہ مالی نقصان ہو اور حج اس لئے نہیں کہ سفر کی صعوبت برداشت کرنی پڑے بلکہ اُن کی غرض اللہ تعالی کا تقوی اور نیکی پیدا کرنا ہے، حسد و کینہ لڑائی اور فساد و بدی اور برائی و غیر دو غیر وبُری باتوں سے بچا کر انسان کو تقی بنانا ہے کیونکہ یہی سب نیکیوں کی جڑ ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے بھی لکھا ہے۔