اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 324

324 معنوں میں تربیت کر سکو۔تم لوگوں کا فرض ہے کہ جس قدر جلدی ہو سکے اپنی تعلیم و تربیت کا خیال کرو۔اگر اپنی تعلیم کی طرف توجہ نہ کرو گی تو قوم درست نہیں ہوگی اور یقینا سلسلہ کی جو خدمت تمہارے ذریعہ ہوسکتی ہے اور جو معمولی خدمت نہیں وہ تم سے بالکل نہیں ہو سکے گی۔یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ اسلام اور سلسلہ کی جو خدمت تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر کے کر سکتی ہو وہ اور کوئی نہیں کر سکتا۔تم کوشش کر کے اُن کی بچپن سے ہی اس رنگ میں تربیت کرو تا ان کی جانیں سلسلہ کی خدمت کے لئے تیار ہوں۔تم اُن کو بچپن ہی سے یہ تعلیم دو کہ سچائی پر عامل ہوئی ، وہ جھوٹ نہ بولیں کیونکہ اگر تمہارا بچہ جھوٹ بولتا ہے تو وہ تم کو بھی بدنام کرتا ہے اور خدا کو بھی ناراض کرتا ہے۔تم ان کو یہ تعلیم دو کہ تمہاری جانیں سلسلہ کے لئے ہیں کیونکہ جانی قربانی کرتے وقت سب سے پہلے جو اُن کے دل میں جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے پیچھے ہماری ماؤں کا اور ہماری بیویوں کا کیا حال ہوگا۔اگر تم ہی اُن کو یہ کہہ دو کہ ہم تب ہی خوش ہوں گی جب تم یا تو فتح پا کر آؤ یا وہاں ہی مارے جاؤ تو پھر اُن کے بوجھ ہلکے ہو جائیں گے اور قربانیاں کرنے کے میدان میں وہ دلیر اور چست گام ہو جائیں گے وہ اپنی زندگیاں قربان کرنے میں ذرہ بھی لرزہ نہ کھائیں گے۔صحابہ نے فتوحات پر فتوحات حاصل کیں لیکن کیوں؟ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری موت ہماری ماؤں کو کوئی صدمہ نہیں پہنچائے گی ، وہ جانتے تھے کہ ہماری موت ہماری بیوی کو کوئی صدمہ نہیں پہنچائے گی بلکہ اُن کے لئے فرحت و خوشی کا موجب ہوگی اس لئے وہ نڈر ہو کر نکلتے تھے اور فتح حاصل کر کے آتے تھے۔جنگِ اُحد کے موقع پر ایک عورت نے اپنی قوت ایمان کا وہ مظاہرہ کیا کہ دُنیا اُس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس جنگ کے موقع پر مشہور ہو گیا کہ رسول کریم وہ شہید ہو گئے ہیں عورتیں بیتاب ہو کر میدان جنگ کی طرف بھاگ نکلیں۔ایک عورت نے آگے بڑھ کر پوچھا تو ایک سپاہی نے جواب دیا۔اے عورت تیرا خاوند شہید ہو گیا۔لیکن اُس عورت نے کہا میں رسول اللہ اللہ سے متعلق پوچھتی ہوں تم مجھے ان کا حال بتاؤ۔لیکن پھر اُس آدمی نے کہا کہ تمہارا باپ مارا گیا۔اُس عورت نے پھر بھی پروانہ کی اور پوچھا کہ مجھے رسول کریم ﷺ کے متعلق خبر دو۔لیکن اس سپاہی نے اس کے کرب و بیقراری کا صحیح علم نہ رکھتے ہوئے اُس کے بھائی کے متعلق کہا کہ وہ بھی مارا گیا۔لیکن پھر اُس عورت نے غصہ کے ساتھ بڑے زور سے پوچھا کہ