اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 319

319 کے مدنظر اختلافات بھی رکھتے ہیں۔مگر افسوس کہ ہمارے مرد اور عورتیں اس فرق کو نہیں سمجھتے۔مرد تو اختلافات پر زور دیتے ہیں مگر عورتیں اتحاد و اتفاق پر زور دیتی ہیں۔حالانکہ دونوں غلطی پر ہیں۔مرد شادی کے بعد عورت کو ایک حقیر جانور خیال کرتا ہے جو اس کے پاس آنے کے بعد اپنے تمام تعلقات کو بھول جائے۔اور وہ یہ امید کرتا ہے کہ وہ بالکل میرے ہی اندر جذب ہو جائے اور میرے رشتہ داروں میں مل جائے۔اگر وہ اپنے رشتہ داروں کی خدمت یا ملاقات کرنا چاہے تو یہ بات مرد پر گراں گزرتی ہے اور بعض اوقات تو وہ دیدہ دلیری سے ایسی بات یا حرکت کا مرتکب ہوتا ہے جو اُس عورت کے خاندان کے لئے ذلت کا باعث ہوتی ہے۔وہ نہیں سوچتا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے اندر بھی ویسا ہی دل رکھا ہے جیسا کہ اُس کے اپنے اندر۔ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت کی صحت خراب ہو جاتی ہے اور وہ بچاری اپنے جذبات کو دبا دبا کر رکھتی ہے اور اس کے نتیجہ میں رسل اور دق کا شکار ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں آج کل ہسٹیر یا وغیرہ کی بیماریاں ہیں اُن کا یہی سبب ہے۔پس مرد سمجھتا ہے کہ عورت میں جس ہی نہیں حالانکہ اُس کے پہلو میں بھی ویسا ہی دل ہے جیسا کہ اُس کے اپنے پہلو میں۔اگر وہ سمجھتا ہے کہ اُس کی بیوی کے اندر ایک محبت کرنے والا دل ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ وہ ماں جس نے اپنی بیٹی کو ایسی حالت میں پالا تھا جبکہ اگر وہ مرد اُس کود یکھتا تو ہر گز دیکھنا بھی پسند نہ کرتا۔اُسے وہ چھوڑ دے؟ یہی حال آج کل کی ساسوں کا ہے وہ بھول جاتی ہیں اپنے زمانہ کو، وہ بھول جاتی ہیں اُس سلوک کو جو اُن کے خاوندوں نے یا اُن کی ساسوں نے اُن سے کیا تھا۔اسی طرح عورتیں اپنی بہوؤں کے جذبات اور طبعی تقاضوں کا خیال نہیں کرتیں اور بات بات پر لڑائی شروع کر دیتی ہیں حالانکہ یہ طریق غلط ہے۔دنیا میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مرد عورت کے جذبات کے متعلق اتنی بد خیالی کرتا ہے گویا عورت میں دل ہی نہیں یا عورت کے جذبات ہی نہیں۔لیکن عورتوں میں یہ بات بہت ہی کم دیکھی گئی ہے۔بعض عورتیں ہوتی ہیں۔جوز بر دست ہوتی ہیں جو کہتی ہیں کہ مرد سب کچھ بھول جائیں اور صرف اُنہی میں محو ہو جائیں مگر بہت ہی کم۔رسول کریم ﷺ کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کس قدر اپنے رشتہ داروں کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔ایک دفعہ آپ گھر میں تشریف لائے دیکھا کہ آپ کی بیوی ام حبیبہ ( جو ابو سفیان کی بیٹی تھی ) کی ران پر اپنے بھائی کا سر ہے اور وہ اُن کے بالوں سے کھیل رہی ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اہم حبیبہ کیا آپ کو