اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 306
۔306 عورتوں کی ہی سورۃ میں اس کا ذکر ہے۔یوں سمجھ لو کہ جب عورتوں ہی کی سورۃ میں ذکر ہے گویا عورت ہی نے یہ مسئلہ حل کیا ہے۔جب مردوں میں اس مسئلہ پر اختلاف ہوا تو اس کو حل کرنے والی ایک عورت ہی تھیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔خدا تعالیٰ نے تو عورتوں کی سورۃ میں اس کو نازل کیا اور عورت سے ہی حل کرایا۔لیکن ہماری عورتیں کہتی ہیں کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ہے اس کو سمجھ لو۔ہر روز دُعا کی جاتی ہے کہ ابے خدا ہم کو یہ یہ انعام دے۔خدا تعالیٰ نے سورۃ النساء میں وعدہ فرمایا کہ جس درجہ کا کوئی ہو ہم اُس کے درجہ کے مطابق اُس کو بنا دیتے ہیں۔اب یہ مسئلہ حل ہو گیا۔تیسرا مسئلہ جس میں ہمارا اُن کا اختلاف ہے۔ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود جنہوں نے آنا تھا وہ آچکے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی آئیں گے۔یہ مسئلہ بھی ایک دو دلیلوں میں سمجھ آسکتا ہے جو رسول کریم ہے نے اپنی سچائی میں پیش کیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں رسول کریم کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اپنے دشمنوں سے کہو کہ میں نے نبوت سے پہلے تم میں ایک عمر گزاری ہے اور تم اقرار کرتے ہو کہ میں نے بندوں پر کبھی جھوٹ نہیں بولا تو کیا جب میں رات کو سویا صبح اٹھ کر خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا ؟ رسول کریم ﷺ کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ حضرت خدیجہ جو مکہ میں سب سے زیادہ مال دار عورت تھی اور آپ گنگال۔اور آپ کے کنگال ہونے کا یہ ثبوت تھا۔عرب کا دستور تھا کہ اپنے بچے باہر دائیوں کے پاس بھیجدیتے تھے تو اس سال جو دائیاں مکہ میں اچھہ لینے آئیں تو ہر دوائی آپ کے لیجانے سے انکار کرتی رہی کیونکہ دائیاں جب بچے پال کر لا تمہیں تو اُن کو خوب انعام و کرام ملاتا۔اُن کا خیال تھا کہ یہاں سے ہم کو کیا ملے گا۔چنانچہ مائی حلیمہ بھی ایک دفعہ آپ کو دیکھ کر چھوڑ گئیں لیکن پھر جب شہر میں دوسرا کوئی بچہ نہ ملاتو پھر واپس آکر وہی بچہ لے گئیں تو آپ کی مالی حالت یہ تھی کہ دایہ بھی نہ ملتی تھی۔پھر جب والدہ فوت ہو گئیں تو اپنے چا کے پاس رہے۔گویا وہ تمام زمانہ ہے کسی کی حالت میں گزارا۔چا کے بچے کھانے پینے کے وقت شور شر کرتے لیکن آپ آرام سے ایک طرف بیٹھے رہتے۔کیونکہ چچا کے لڑکے جانتے تھے کہ یہ تو ہمارے ٹکڑوں پر پل رہا ہے اصل مالک تو ہم ہیں۔اکثر آپ کے چا کہتے۔بچہ تو نہیں ہنستا کھیلتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچی کے دل میں بھی وہ محبت نہ تھی۔آپ کے مقابلہ میں خدیجہ بہت مال دار عورت تھی، کئی تو اُن کے غلام تھے، اُن کی تجارت کے قافلے دُور دُور جاتے ، ان کی عادت تھی کہ اپنے غلاموں سے سب حالات دریافت کرتی رہتیں۔رسول کریم نے آپ کے صلى الله۔