اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 299

299 پھر اس پر سہاگا پھیرتا ہے۔پھر اس میں بیج بکھیرتا ہے۔پانی دیتا ہے۔اور وہ جانتا ہے کہ میرا ایسا کرنا ضائع نہیں جائے گا بلکہ میری یہ محنت کئی گنا زیادہ پھل لائے گی کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ میرے باپ دادا نے ہمیشہ اسی طرح ہل چلایا ، بیج بویا، تب غلہ ملا لیکن اگر زمیندار دیکھتا کہ میرے ہل چلانے سہا گہ پھیر نے اور پیج بکھیر نے ، کھاد ڈالنے اور پانی دینے کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا یا پانچ دس دفعہ تو ہو گیا اور پھر کھیتی نہیں ہوئی تو وہ اتنی محنت نہ کرتا۔لیکن وہ دیکھتا ہے کہ نتیجہ ہمیشہ ہی نکل آتا ہے بھی شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ کھیتی خراب ہو جائے کھیتی خراب ہونے پر وہ اس کے ماہرین کے پاس جا کر پوچھتا ہے کہ کیا وجہ ہے ہماری کھیتی خراب ہو گئی ؟ پھر جو اس کو مشورہ ملتا ہے زمیندار جا کر اس پر عمل کرتا ہے اور اس کو پورا یقین ہوتا ہے اپنے کام کے نتیجہ نکلنے کا۔اسی وجہ سے وہ سردی کے موسم میں صبح سویرے جا کر پانی دیتا ہے اور گرمی کے دنوں میں دو پہر کے وقت خوشی سے اپنے کھیتوں میں کام کرتا رہتا ہے اور بھی محنت سے نہیں اکتا تا۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ اُسے پورا یقین ہوتا ہے کہ میری محنت ضائع نہیں جائے گی بلکہ یقیناً اس کا نتیجہ نکلے گا۔تو سوال یہ ہے کہ اگر ایک زمیندار تھوڑا بیج بکھیر کر جو چند روپوں کا ہوتا ہے ایک سال کے غلہ کے لئے اس قدر محنت کرتا اور یقین رکھتا ہے کہ محنت ضائع نہ جائے گی تو کیا جو کام ہماری جماعت کے لاکھوں آدمی کر رہے ہیں اور اپنے پیٹ کاٹ کر چاند ے دیتے ہیں ، اپنے عزیزوں سے رشتہ توڑ کر جماعت سے رشتہ جوڑتے ہیں تو اگر لاکھوں روپیہ خرچ کرنے اور اس قدر تکلیفیں اٹھانے کا نتیجہ نہ نکلے تو ہم سب سے بڑھ کر بد نصیب کون ہوگا ؟ جب زمیندار چند روپوں کا بیج ڈال کر نتیجہ لے لیتا ہے تو ہم جو ہزار ہا روپیہ خرچ کرتے ہیں پھر اس کا نتیجہ نہ پائیں تو اس کی دو ہی وجہ ہو سکتی ہیں یا تو راستہ غلط ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے یا ہم صحیح ذرائع استعمال نہیں کرتے۔زمیندار کی کھیتی خراب ہو جائے تو وہ زمین کے ماہرین سے جا کر پوچھتا ہے اور جو وہ نقص بتاتے ہیں اس کی اصلاح کر لی جاتی ہے اسیطرح جو راستہ ہم نے التیار کیا ہے اس کی صحت کا علم ہو سکتا ہے۔کہ آیا وہ غلط ہے یا صحیح۔مثلاً ہمارے سلسلہ کی پہلی بنیادی باتیں جن میں ہم دوسروں سے اختلاف رکھتے ہیں وہ یہ ہیں۔پہلی بات اختلاف کی۔وہ کہتے ہیں کہ ایک مامور آنے والا ہے ہماری اصلاح کے لئے اور ہم لوگ کہتے ہیں وہ مہدی علیہ السلام آچکے جو بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ تھے۔اور جس عیسی کے متعلق وہ کہتے ہیں آئیں گے ہم کہتے ہیں وہ آچکے، دوسری بات ہم کہتے ہیں کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور انسان قرآن مجید کی فرمانبرادی میں نبی کا درجہ بھی پا