اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 297

297 پڑھیں اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطن ما رزقتنا اے خدا ہمیں شیطان سے بچا اور جو اولاد ہمیں دے اُسے شیطان سے محفوظ رکھ۔یہ کوئی ٹو نہ نہیں، جادو نہیں اور ضروری نہیں کہ عربی کے الفاظ ہی بولے جائیں بلکہ اپنی زبان میں ہی انسان کہہ سکتا ہے کہ انہی گناہ ایک بری چیز ہے اس سے ہمیں بچا اور بچہ کو بچا۔اس وقت کا یہ خیال اس کے اور بچہ کے درمیان دیوار ہو جائے گا اور رسول کریم اللہ نے فرمایا ہے یہ دعا کرنے سے جو بچہ پیدا ہوگا اس میں شیطان کا دخل نہیں ہوگا۔کئی لوگ حیران ہوں گے کہ ہم نے کئی دفعہ دعا پڑھی مگر اس کا وہ نتیجہ نہیں نکلا جو بتایا گیا ہے انکے طلبہ کا جواب یہ ہے کہ اول تو وہ لوگ اس دعا کو صحیح طور پر نہیں پڑھتے صرف ٹونے کے طور پر پڑھتے ہیں۔دوسرے سب گناہوں کا اس دُعا سے علاج نہیں ہوتا بلکہ صرف ورثہ کے گناہوں کے لئے ہے۔ورثہ کے گناہ کے بعد گناہ کی آمیزش انسان کے خیالات میں اس کے بچپن کے زمانہ میں ہوتی ہے اس کا علاج اسلام نے یہ کیا ہے کہ بچہ کی تربیت کا زمانہ رسول کریم نے نے وہ قرار دیا ہے جبکہ بچہ بھی پیدا ہی ہوا ہوتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر ہو سکتا تو رسول کریم یہ فرماتے کہ جب بچہ رحم میں ہو اسی وقت سے اس کی تربیت کا وقت شروع ہو جانا چاہئے مگر یہ چونکہ ہو نہیں سکتا تھا اس لئے پیدائش کے وقت سے تربیت ضروری قرار دی اور وہ اس طرح که فرما دیا کہ جب بچہ پیدا ہو اسی وقت اس کے کان میں اذان کہی جائے اذان کے الفاظ نو نے یا جادو کے طور پر بچہ کے کان میں نہیں ڈالے جاتے بلکہ اس وقت بچہ کے کان میں اذان کا حکم دینے سے ماں باپ کو یہ امر سمجھانا مطلوب ہے کہ بچہ کی تربیت کا وقت ابھی شروع ہو گیا ہے۔اذان کے علاوہ بھی رسول کریم ہے نے بچوں کو بچپن سے ہی آداب سکھانے کا حکم دیا ہے اور اپنے عزیزوں کو بھی بچپن میں آداب سکھا کر علمی ثبوت دیا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ امام حسن " جب چھوٹے تھے تو ایک دن کھانا کھاتے وقت آپ نے اُن سے فرمایا بيمينك و كل ممّا يليك كہ دائیں سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔حضرت امام حسن کی عمر اس وقت اڑھائی برس کے قریب ہوگی۔ہمارے ملک میں اگر بچہ سارے کھانے میں ہاتھ ڈالتا اور سارامنہ بھر لیتا ہے بلکہ اردگرد بیٹھنے والوں کے کپڑے بھی خراب کرتا ہے تو ماں باپ بیٹھے جنتے ہیں اور کچھ پروا نہیں کرتے یا یونہی معمولی بات کہہ دیتے ہیں جس سے اُن کا مقصد بچہ کو سمجھانا نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانا ہوتا ہے۔حدیث میں