اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 296
296 سکتی ہے مگر پھر بھی ورثہ میں اثر ضرور ہوتا ہے۔اسی طرح گناہ، لالچ ، غصہ، ڈر محبت خواہش کی زیادتی وغیرہ سے پیدا ہوتا ہے۔آب غور کرو کیا یہ وہی خصلتیں نہیں جو بچپن میں بچہ سیکھتا ہے کہ اس کی چھوٹی چھوٹی بے ضرر آنے والی عادتیں ہی نہیں ہیں جو سارے گناہوں کا موجب ہوتی ہیں۔ماں باپ کہتے ہیں کہ جی بچہ ہے اس لئے فلاں فعل کرتا ہے مگر کیا بچپن ہی کا زمانہ وہ زمانہ نہیں ہے جب سب سے زیادہ گہری جگہ پکڑنے والے نقش جمتے ہیں۔ایک شخص جو کسی کا مال چوری کر کے لے جاتا ہے اسے اگر بچپن میں اپنے نفس پر قابو پانا سکھایا جاتا تو وہ بڑا ہوکر چوری کا کیوں مرتکب ہوتا۔ایک شخص جہاد کے لئے جاتا ہے مگر دشمن سے ڈر کر بھاگ آتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کیسا خبیث ہے۔مگر غور کرو کیا اسے وہی بُزدلی پیدا کرنے والے قصے نہیں بھگا لائے جو ماں اُسے بچپن میں سنایا کرتی تھی۔ہے۔اسی طرح غصہ ہے۔بچپن میں ماں باپ خیال نہیں رکھتے اس وجہ سے بچہ بڑا ہو کر ہر ایک سے لڑتا پھرتا پھر کیا گناہ قوت ارادی کی کمی سے پیدا نہیں ہوتا ؟ اور کیا یہ کی کسی سبب کے بغیر ہی پیدا ہو جاتی ہے؟ آخر وجہ کیا ہے کہ انسان ساری عمر ارادے کر کے توڑتا رہتا ہے مگر اُس سے کچھ نہیں بنتا ؟ یا ارادہ کی کمی ایک ہی دن میں تو نہیں پیدا ہو جاتی بلکہ یہ بھی بچپن میں صرف بچپن میں پیدا ہوتی ہے۔ورنہ کیا سبب ہے کہ باجود کچی خواہش کے کہ میں فلاں بدی کو چھوڑ دوں یہ اسے چھوڑ نہیں سکتا۔اگر تربیت خراب نہ ہوتی تو انسان کی اصلاح کے لئے صرف اس قدر کہہ دینا ہی کافی تھا کہ فلاں بات بُری ہے اور وہ اُسے چھوڑ دیتا اور وہ بات اچھی ہے وہ اسے اختیار کر لیتا۔اب میں اس نقص سے اولاد کو محفوظ کرنے کا طریق بتاتا ہوں۔پہلا دروازہ جوانسان کے اندر گناہ کا کھلتا ہے وہ ماں باپ کے ان خیالات کا اثر ہے جو اس کی پیدائش سے پہلے اُن کے دلوں میں موجزن تھے۔اور اس دروازو کا بند کرنا پہلے ضروری ہے۔پس چاہیئے کہ اپنی اولادوں پر رقم کر کے لوگ اپنے خیالات کو پاکیزہ بنا ئیں لیکن اگر ہر وقت پاکیزہ نہ رکھ سکیں تو اسلام کے بتائے ہوئے علاج پر عمل کریں تا اولا دہی ایک حد تک محفوظ رہے۔اسلام ورثہ میں ملنے والے گناہ کا یہ علاج بتاتا ہے کہ جب مرد و عورت ہم صحبت ہوں تو یہ دعا