اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 285

285 طرح بالکل الگ ہو گیا۔تو ہمارے ملک میں اگر کسی کو کھانے پینے کومل جائے تو سمجھتا ہے کہ میں دوسروں سے الگ ہوں۔انگریزوں کے ملک میں یہ دستور نہیں کیونکہ وہ لوگ علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں نہ کہ بجائے قوم کو فائدہ پہنچانے کے الگ رہ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔دیکھو ہماری سٹیج پر ہی یہ بات ہوئی ہے کہ لوگوں کو یہ نظر ہو گیا ہے کہ وہ بیج کی بیوی یا بیرسٹر کی ماں یا ڈ پٹی کی بیوی ہیں اس لئے انہیں اونچی جگہ ملنی چاہیئے حالانکہ اُن کو یہ خیال رکھنا چاہئے تھا کہ فلاں بہن چونکہ پریذیڈنٹ ہے یا سیکرٹری ہے یا قومی کار گن ہے اس لئے ان کا یہاں ہونا ضروری ہے۔دنیا میں عزت پیسوں سے نہیں ہوا کرتی۔روپے ملنے سے آدمی بڑا نہیں بن جایا کرتا اور کوئی آدمی نہ تو الی بھر کدار لباس پہننے سے یا بیش قیمت زیورات پہن لینے سے قدر پاتا ہے بلکہ نیچی تعلیم انسان کے اندر وقار پیدا کرتی ہے۔قابل عزت وہی ہوتا ہے جو تعلیم یافتہ ہو۔گری ہوئی قوموں میں اچھے کپڑوں کا بےشک لحاظ کیا جاتا ہے مگر اصل نیک لوگوں میں ایسا نہیں ہوتا۔حضرت شیخ سعدی کا قصہ آتا ہے کہ ایک امیرانہ دعوت میں اُن کی عزت نہ ہوئی کیونکہ وہ سادہ لباس پہنا کرتے تھے۔دوسرے دن جبکہ وہ اعلیٰ لباس پہن کر گئے تو عزت کی اُونچی جگہ دی گئی اور آپ نے اپنے کپڑوں کو کھلانا شروع کیا۔جب لوگوں نے استفسار کیا تو فرمایا کہ میری نہیں بلکہ میرے لباس کی عزت کی گئی ہے۔ہندوستان میں یہ جو بڑے بڑے بیج اور گورنر ہیں ان کو اپنے بڑے لوگوں میں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ایک فنانشنل کمشنر تھا اسنے تصویر کھنچوانے کے وقت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے پیچھے کھڑا ہونے کی اجازت حاصل کی حالانکہ وہ ہمارے ہندوستان میں جب حاکم تھا بہت جابر اورا علے عزت کا مالک تھا کیونکہ تنخواہ زیادہ تھی اور لوگ زیادہ پیسوں والے کی عزت کرتے ہیں مگر یہ غلط ہے دولت سے عزت حاصل نہیں ہوتی۔خیر ہماری جماعت میں تو ابھی یہ دنیوی عزت آئی ہی نہیں۔عزت ابھی کہاں۔یادر کو حقیقی عزت روحانیت سے نیکی تقویٰ اور طہارت سے پیدا ہوتی ہے۔ترقی کرنے کا زریعہ ہی نیک عملی ہے۔عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔دینی تعلیم حاصل کرنی چاہیئے جس سے قوم اور ملت کو فائدہ ہو۔تم میں سے کتنی ہیں جو خدمت دین اور تبلیغ اسلام کرتی ہیں۔ئیس خدا اور رسول کی باتیں سنو ، حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو، ناولوں اور رسالوں کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی ہے لیکن دینی کتابوں کے لئے وقت نہیں ملتا؟ کتنی شرم کی بات ہے کہ اب انگریز تو مسلمان