اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 261

261 انہیں جنگی کرتب دکھاتے اور جنگ میں ہمیشہ کسی نہ کسی بیوی کو ساتھ رکھتے تھے۔اس سے بعض نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سفر میں بیوی کو ساتھ رکھنا سنت ہے۔بے شک ہے مگر اس سے بڑی سنت یہ ہے کہ عورتوں کے اندر جرات اور بہادری پیدا کی جائے کیونکہ جب تک ان میں بہادری نہ ہو کوئی قوم جیت نہیں سکتی۔قومی ترقی میں سب سے بڑی روک عورت کی بزدلی ہوتی ہے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہمارے گھر میں کوئی سیڑھی سے گر پڑا میں اُسے بچانے کے لئے گودنے لگا تو میری بیوی مجھے چمٹ گئی کہ ایسا نہ کرو۔آخر مجھے دھکا دے کر اُسے ہٹانا پڑا۔بجائے اس کے کہ وہ یہ خیال کرتی کہ میرا خاوند اُسی وقت محبت کے قابل ہو سکتا ہے جب اس کے دل میں جرات اور بہادری ہو اُس نے اُلٹا مجھے روکنا چاہا پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ عورتوں کو دلیر بنائے۔صحابہ نے عورتوں کی بہادری سے بڑے بڑے فائدے اُٹھائے ہیں۔جنگ یرموک میں ایک نازک موقعہ پر مسلمان عورتوں کا کارنامہ جنگ یرموک میں مسلمانوں کے لئے نہایت ہی نازک موقع تھا۔اس میں عیسائیوں کے لشکر کی تعداد چھ سے دس لاکھ بیان کی جاتی ہے اور روم کا بادشاہ یہ عہد کر کے آیا تھا کہ یا تو میں مسلمانوں کو تباہ کر دونگا یا خود واپس نہیں آؤں گا۔اور اگر چہ وہ خود جنگ میں تو شامل نہ ہوا مگر فوج کے پیچھے تمام انتظامات کرتار ہا تھا اور اس نے اپنے لشکر کے کمانڈر سے جس کا نام غالباً ماہان تھا وعدہ کیا تھا کہ اگر تم کامیاب ہو گئے تو میں اپنی لڑکی کی شادی تمہارے ساتھ کر دوں گا۔اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد ساٹھ ہزارتھی اور اُن کے میسرہ کو شکست ہو گئی۔اوّل تو کسی وقت بھی پہلو کو شکست ہو تو بہت خطرہ ہوتا ہے کیونکہ دشمن گھیرا ڈال کر ساری فوج کو تباہ کر سکتا ہے۔مگر جس صورت میں فوج پہلے ہی قلیل ہو تو پھر اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی اور دشمن ایک ایک آدمی چن کر قتل کر سکتا ہے۔اگر خدا کی نصرت شامل حال نہ ہوتی تو اُس دن ایک مسلمان کا بچنا بھی محال تھا کیونکہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور پھر بازو سے شکست ہو چکی تھی۔اُس وقت مسلمان عورتوں نے لشکر کو بچایا۔جو لوگ پیچھے ہے اُن میں ابو سفیان بھی تھے۔وہ اگر چہ بڑے بہادر تھے اسلام میں بڑے بڑے کام کر چکے تھے اور اعلی درجہ کے جرنیل تھے مگر جب باقی لشکر پیچھے بنا تو ان کو بھی لڑنا پڑا اُس وقت اُن کی بیوی ہندہ جو مسلمانوں میں غضب ناک نگاہوں سے دیکھی جاتی تھی لکڑی ہاتھ میں لے کر آگے بڑھی اور اپنے خاوند کے گھوڑے پر مار کر کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی کفر کی حالت میں تو اسلام کا اس قدر مقابلہ اور اب اسلام کی