اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 260

260 کندھوں کے اوپر سے دیکھ لو۔نادان کہتے ہیں یہ حدیث غلط ہے کیونکہ اس سے رسول کریم ﷺ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ کھیل دیکھتے تھے حالانکہ یہی وہ خوبی ہے جسے چھوڑ کر مسلمان آج تباہ ہور ہے ہیں۔اسلام نے ہر وقت ہوشیار اور دشمن کے مقابلہ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عورت کو بھی بزدلی سے بچانا چاہا ہے۔مغلیہ حکومت کے تباہ ہونے کی ایک وجہ ہندوستان میں مغلیہ حکومت کی تباہی میں عورت کی بزدلی اور مرد کے دل میں عورت کی بے جا محبت کا بہت دخل ہے۔غدر کے زمانہ میں انگریزوں کے ہمدردوں نے جب دیکھا کہ باغی فوج نے ایک ایسے مقام پر تو نہیں رکھی ہیں جہاں سے صاف انگریزی فوجوں پر زد پڑتی ہے اور وہ تباہ ہو جائیں گی تو انہوں نے زینت محل کو ( جو بادشاہ کی چہیتی بیوی تھی مگر اس خیال سے کہ میرا بیٹا تخت نشین ہو انگریزوں سے بھی ساز باز رکھتی تھی۔گو اس وقت تخت اور بادشاہت برائے نام ہی تھی مگر پھر بھی اُسے خواہش تھی کہ میرا بیٹا اسے حاصل کرے) یہ پیغام بھیجا کہ اگر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو یہاں سے تو پیں اٹھواد و کیونکہ وہ جگہ انگریزی فوجوں کے لئے نہایت خطرناک ہو سکتی تھی اور خیال ہے کہ اگر وہاں سے تو میں بنائی نہ جائیں تو شاید ندر کا نتیجہ بالکل الٹ ہوتا۔زینت محل نے بادشاہ سے کہا میرا دل تو گھٹتا ہے میں بیہوش ہو جاؤں گی یا تو یہاں سے تو ہیں اُٹھوا دو اور یا پہلے مجھے مار دو۔بادشاہ نے اس کے کہنے پر تو ہیں وہاں سے ہٹوا دیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی۔اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو بادشاہ پر زینت محمل کے اس بہانہ کا اُسی وجہ سے اثر ہوا کہ وہ جانتا تھا یہ توپوں کی آوازیں سننے کی عادی نہیں۔اگر اس کے سامنے پہلے بھی تو میں چلتی رہی ہو تیں تو اُس وقت وہ ہرگز یہ بہانہ بنا سکتی کیونکہ بادشاہ کہ سکتا تھا کہ جب پہلے تم ان کی آواز میں سنتی رہی ہو تو آج کیوں بیہوش ہو جاؤ گی۔تو عورتوں کو دلیری اور حوصلہ کے کاموں سے الگ رکھنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ زینت محل نے بادشاہ کو دھوکا دے دیا۔حضرت عائشہ کو جنگی کرتب دکھانے کی حکمت حضرت عائشہ کوئی جنگی منظر دیکھ کر ہر گز یہ نہ کہ سکتی تھیں کہ میرا دل گھٹتا ہے کیونکہ رسول کریم نے