اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 230
230 مارے میں سوال کرتے ہیں۔جب میں اُن کے سوالوں کا ٹھیک جواب دیتا ہوں تو اس وقت حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اسکے متعلق آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے۔میرے یہ کہنے پر کہ کوئی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ جواب سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس علم کی کتابیں پڑھی ہیں۔میں جواب دیتا ہوں کہ میں نے علوم کی جامع کتاب پڑھی ہے۔قرآن کے ہر ایک لفظ اور بات پر غور کرو پھر تم پر قرآن کے علوم کا دروازہ کھولا جائیگا معمولی لیاقت کی عورت بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔میں نے سالہا سال وعظ کیا لیکن تمھیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔خدا کرے کہ اس دفعہ میں دیکھ لوں کہ میری اس نصیحت سے تم کیا فائدہ حاصل کرتی ہو۔قرآن کس طرح پڑھنا چاہیئے دینی علوم کے لئے سب سے پہلے قرآن کی ضرورت ہے اس کے پڑھنے میں یہ نیت ہونی چاہیئے کہ یہ خدا کی کتاب ہے ، سارا علم اس میں موجود ہے، ہر لفظ پر اعتراض پیدا کرو خدا تعالے خود اس کا حل بتائے گا۔غور کرو کہ صرف الحمد للہ کہنے سے کوئی نکتہ نہیں معلوم ہوسکتا لیکن اگر کوئی تم یہ اعتراض پیدا کرو کہ ہمارے والدین اور ہمارے استاد کیوں قابل تعریف نہیں تو آگے رب العالمین میں خود اس کا جواب موجود ہے کہ تمھارے احسان کرنیوالوں کا رب بھی تو وہی ہے۔فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے کہ کیوں سب تعریفیں خدا ہی کے لئے ہیں۔اس طرح پر معارف آپ پر کھلیں گے لیکن اگر نیت صرف یہ ہو کہ قرآن کے الفاظ پڑھ کر برکت حاصل کی جائے تو کچھ نامعدہ نہ ہوگا۔قرآن کے بعد سنت رسول کا علم حاصل کرو دوسری چیز جس کا پڑھنا دینی تعلیم کے لئے ضروری ہے وہ سنت رسول کا علم ہے یعنی احادیث نبی کریمی و دینی تعلیم اس کے بغیر ناقص ہے۔اگر چہ قرآن کریم میں سب کچھ ہے مگر اس کا علم حاصل کرنے کے لئے کامل تقویٰ کی ضرورت ہے۔وہ باتیں جو تقویٰ کے کامل ہونے پر منحصر ہیں ان کو قرآن نے چھپایا ہوا ہے۔وہ پڑھنے والے پھر اس وقت تک نہیں کھلیں گے جب تک وہ درجہ حاصل نہ ہو جائے۔انتہائی تقوے سب کو نہیں مل سکتا اس لئے آنحضرت ﷺ نے شریعت کے اہم مسائل اور ابتدائی علوم نکال کر لوگوں پر خود