اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 218

218 یہاں کی عورتیں بجھتی ہیں گویا اُن کے نزدیک اُن کی پیدائش کا مقصد کھانا پینا ہے۔خدا نے ہاتھ دئے ہیں ، پاؤں دئے ہیں، زبان دی ہے، آنکھ دی ہے ، ناک دی ہے، ان میں سے اگر کوئی عضو چلا جائے تو قدر آتی ہے۔اگر آنکھ چلی جائے یا ناک کٹ جائے تو قد رآتی ہے۔ناک کٹنا بڑی ہتک ہے۔ناک کی بڑی عزت ہے حالانکہ چھوٹا سا عضو ہے۔ناک کے بہت فائدے ہیں آدمی اس سے سانس لیتا ہے۔ناک کے اندر جو بال ہیں وہ بھی فائدے سے خالی نہیں۔کانوں ہی کو دیکھ لو اگر کٹ جائیں تو انسان کیسا بد نما لگے۔تو انسان سوچے خدا نے جو آنکھیں، ناک،کان وغیرہ ہزاروں نعمتیں دی ہیں تو کیوں؟ کیا صرف اس لئے کہ دنیا میں رہ کر روٹی کھاؤں اور مر جاؤں۔کونسا کام ہے جوان سے لیا جاتا ہے۔پس میں آج یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی زندگی کو کارآمد بناؤ۔یہاں تک کہ شہر والے سمجھیں اُن کا مدار تمھاری زندگی پر ہے۔یا گاؤں والے دیکھیں اُن کی زندگی تمھیں سے ہے۔یا ہمسائے سمجھیں اُن کا مدار تمھاری زندگی پر ہے۔عربی میں مثل مشہور ہے مَوتُ الْعالِم مَوْتُ الْعَالَمِ۔پس اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اپنی زندگی کومفید بناؤ۔غیر قوموں کی ترقی دیکھ کر اپنی زندگی کو کارآمد بناؤ۔اگر پہلے تم نے اپنی حالت میں تبدیلی نہیں کی تو اب اپنی حالت میں تغیر پیدا کرو۔مخلوق خدا کی ہمدردی کروں کسی کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھو ، دکھ میں شامل ہو، لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ یہ شخص بڑی نمازیں پڑھتا ہے۔اس کا نماز پڑھنا کیا فائدہ دیتا ہے جبکہ اُس کا وجود اُن کے لئے مفید نہ ہوا۔پس اپنی زندگی اور اپنے وجود کو مفید بناؤ۔از مصباح ۱۵ جنوری ۱۹۲۹) قانون کا احترام کرو اور اختلاف رائے سے مت گھبراؤ لجنہ اماءاللہ قادیان کی طرف سے ایک استقبالیہ تقریب میں حضور نے یہ تقریر فرمائی) ہمیشہ قانون کی پابندی کی جائے میں پہلے تو نمبرات لجنہ کا اپنی طرف سے اور اپنے خاندان اور اپنے ہمراہیوں کی طرف سے اس دعوت کے متعلق شکر یہ ادا کرتا ہوں جو ہماری آمد پر دی گئی ہے۔اس کے بعد لجنہ جو اپنے کام کو وسیع کرنے کے متعلق کر رہی ہے اس کی نسبت ایک بات کی طرف توجہ