اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 15

15 کی سزا پائے گی اس لئے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عورتوں کے ذہن میں یہ بات ڈالی جائے کہ عورتوں کو بھی مذہب کی ویسی ہی ضرورت ہے جیسی مردوں کو۔تا وہ سمجھیں کہ اسلام کیا ہے کیونکہ جب کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس کے حاصل کرنے کے طریق سیکھتا ہے اور جب اس کی حقیقت سمجھتا ہے تو اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس جیسے مردوں کا حق ہے کہ وہ دین کو حاصل کریں ویسے ہی عورتوں کا بھی حق ہے کیونکہ مذہب کے احکام کا توڑنا جیسے مردوں کو نقصان دیتا ہے ایسے ہی عورتوں کو بھی دیتا ہے۔پس کیا وجہ ہے عورتیں مردوں کی طرح دین نہ سیکھیں۔دیکھو اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ مذہب کا کیا فائدہ ہے تو وہ خدا کو مانے گا اور اس کے احکام کی پابندی کرے گا لیکن اگر اس کو پتہ ہی نہ ہو تو پھر اسے کیا ضرورت ہے کہ خدا کو مانے اس سے تو بہتر ہے کہ نہ مانے۔پھر جب تک اُسے یہ معلوم نہ ہو کہ رسولوں کے ماننے نہ ماننے میں کیا فائدہ یا نقصان ہے تو وہ کیوں مانے گا۔پس ان باتوں کے فائدہ اور حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے اور جس طرح مرد دین کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اسی طرح عورتوں کو کرنی چاہیے۔متقی عورتوں کا ذکر قرآن میں قرآن کریم میں دو پار سا عورتوں کا ذکر آتا ہے جن میں سے ایک فرعون کی بیوی ہے۔ہے۔فرعون کو تو توفیق نہ ملی لیکن اُس کی عورت نے تقوی اختیار کیا اور اُس نے مذہب کی ضرورت کو سمجھا اور موسیٰ پر ایمان لائی۔اللہ تعالی نے اُس کا ذکر قرآن کریم میں بطور مثال کے کیا ہے اور اس سے بڑھ کر اور فضیلت کیا ہو سکتی ہے کہ اُس کتاب میں جو ہمیشہ کے لئے ہے اُس کا ذکر آیا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ چونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ جو فرائض مذاہب کے متعلق مردوں کے ہیں وہی عورتوں کے بھی ہیں۔دوسری مثال مریم کی ہے۔وہ حضرت عیسٹے کی والدہ تھیں۔اس زمانہ میں گمراہی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی انہوں نے ایسی پر ہیز گاری دکھائی کہ اُن کے بیٹے نے نبوت حاصل کر لی۔دنیا پر حضرت مسیح کا بڑا احسان ہے لیکن حضرت مریم کا بھی بڑا احسان ہے کیونکہ ان کی تربیت سے ایک ایسا انسان بنا جس نے دنیا پر بڑا احسان کیا قرآن کریم فرماتا ہے کہ وہ بڑی متقی اور پرہیز گار عورت تھی۔اُن کے بچے نے ان سے تقومی سیکھا۔سود کھو قرآن کریم میں جہاں حضرت مسیح کا ذکر ہے ساتھ ہی حضرت مریم کا ذکر بھی موجود ہے۔اسلام میں عورتوں کی خدمات پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے آنحصرت لے کے زمانے میں جب