اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 204
204 لڑکی کا رنگ کیسا ہے۔اگر اُس وقت چہرہ چھپایا نہ جاتا تھا تو پھر عورت کو بھیج کر رنگ معلوم کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اسی طرح حضرت عمر نے ایک عورت سے کہا اُم ہانی میں نے تمہیں پہچان لیا ہے۔اس کا مطلب یہی تھا کہ چال دیکھ کر پہچان لیا ہے نہ یہ کہ شکل دیکھ کر۔ایسے انسان کو جو واقف ہو یہ کہنا کہ میں نے تمھاری شکل دیکھ کر تمہیں پہچان لیا ہے کوئی خوبی کی بات نہیں ہے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ ایک دفعہ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کی ایک بیوی آپ کے پاس آئیں۔شام کا وقت ہو گیا آپ انہیں گھر پہنچانے کے لئے ساتھ جارہے تھے کہ راستہ میں دو آدمی ملے ، غالباً منافق ہوں گے کہ آپ نے خیال کیا ان کے دل میں کوئی بدظنی نہ پیدا ہو آپ نے اپنی بیوی کے منہ سے پردہ ہٹا کر کہا یہ میری بیوی ہے جو میرے ساتھ ہے، اگر منہ کھلا رکھا جاتا تھا تو رسول کریم ﷺے کو اس طرح اپنی بیوی کا چہرہ دکھانے کی کیا ضرورت ہوسکتی تھی۔اسی طرح ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا میں فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر معلوم نہیں وہ کیسی ہے۔آپ نے فرما یاد یکھنا جائز ہے تم دیکھ سکتے ہو۔اُس شخص نے لڑکی کے باپ سے آکر یہ بات کہی تو اسنے کہا میں اپنی لڑکی دکھانے کے لئے تیار نہیں ہوں۔یہ باتیں لڑ کی بھی سن رہی تھی اسنے کہا جب رسول کریم ﷺ نے جائز قرار دیا ہے تو کیوں روکا جاتا ہے۔اگر لڑ کی کھلے منہ پھرتی تو اول رسول کریم سے اور پھرلڑکی کے باپ سے کہنے کی کیا ضرورت تھی۔اس قسم کے بہت سے واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ کھلے منہ عورتیں نہ پھرتی تھیں۔ہاں کام کے لئے باہر نکلتی تھیں ، مردوں سے باتیں کرتی تھیں، جنگوں میں شامل ہوتی تھیں۔اصل بات یہ ہے کہ پردہ کے متعلق بے جا جو تشدد کیا گیا اس کا یہ نتیجہ ہے کہ پردہ کو بالکل ازادینے کی کوشش کی جارہی ہے۔میں نے خود دیکھا ہے عورتوں کو ڈولی میں لاتے اور پھر ڈولی کے ارد گرد پردہ تان کر گاڑی میں سوار کراتے یہ بے جانتی تھی مگر یہ طریق بھی خطرناک ہے کہ اصل مسئلہ کو بگاڑا جارہا ہے اس طرح اسلام پر زد پڑتی ہے۔اگر مخالفین یہ کہیں کہ اسلام میں پردہ کا علم تو ہے مگر ہم اس کی پابندی نہیں کرتے تو یہ اور بات ہے۔سمجھ لیا جائے کہ جس طرح اور کئی شرعی باتوں پر عمل نہیں کرتے اسی طرح اس پر بھی نہیں کرتے۔اور جب یہ سمجھ آ جائے گی کہ اسلامی پردہ کسی لحاظ سے مضر نہیں بلکہ مفید ہے تو لوگ اس کی پابندی