اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 203
203 کرے تو شاید ساری قوم اس کا بائیکاٹ کر دے لیکن شریعت کے احکام آج سے تیرہ سو سال پہلے مل چکے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے ماتحت میں فتویٰ دوں گا کہ عورتوں کی گاڑیوں میں کوئی خطرہ ہو تو مرد عورت کو اپنے پاس مردانہ گاڑی میں بٹھالے یا عورت اکیلی مردانہ گاڑی میں جا بیٹھے جہاں وہ شریف مردوں کی موجودگی میں اپنی عزت کو بہ نسبت اکیلے کمرے میں بیٹھنے کے زیادہ محفوظ بجھتی ہو۔جہاں تک اس وقت لکھواتے ہوئے میرے ذہن میں مسائل آئے ہیں میں نے لکھوا دیئے ہیں اگر آپ کو اور دریافت کرنے کی ضرورت ہو تو دریافت فرمائیں۔مرزا محمود احمد۔قادیان از مصباح یکم اپریل ۲۸) اسلامی پردہ کے متعلق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی تشریحات (الفضل کے رپورٹر کے قلم سے) البوزی ۲۹ جون ۱۹۲۸ - نماز جمعہ کے بعد شیخ عبدالغفور صاحب میڈیکل سٹوڈنٹ نے پوچھا۔اسلامی پردہ کی کیا حدود ہیں۔حضور نے فرمایا:۔زیادہ سے زیادہ پر وہ تو یہ ہے کہ منہ سوائے آنکھوں کے اور وہ لباس جو جسم کے ساتھ چسپاں ہو چھپایا جائے۔باقی الا ماظہر کے ماتحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ نگا کرنا پڑے کیا جاسکتا ہے۔مثلاً ایک زمیندار عورت منہ پر نقاب ڈال کر گوڈی وغیرہ زمینداری کا کام نہیں کر سکتی اس کے لئے جائز ہے کہ ہاتھ اور مُنہ ننگے رکھے تا کہ کام کر سکے لیکن جن عورتوں کو اس قسم کے کام نہ کرنے ہوں بلکہ یوں سیر کے لئے باہر نکلنا ہوان کے لئے یہی چاہیئے کہ منہ کوڈھانکیں۔آج کل پردہ کے متعلق جس طریق پر بحث کی جارہی ہے وہ درست نہیں ہے۔کوشش یہ کی جارہی ہے کہ قرآن کریم کی وہ آیت جس میں پردہ کا حکم ہے اسے اور معنے پہنائے جائیں۔اگر چہ اس آیت سے وہ بات نہیں نکلتی جو نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر دیکھنا یہ چاہئے کہ رسول کریم ﷺ نے اس کے کیا معنے سمجھے اور پھر صحابہ نے کیا سمجھے اور اس پر کس طرح عمل کیا۔اس کے متعلق جب دیکھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت منہ پردہ میں شامل تھا۔صاف طور پر لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے نواسہ کے لئے شادی کی تجویز کی تو ایک عورت کو بھیجا کہ وہ جا کر دیکھ آئے صلى الله