اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 194
194 کرتا ہوں کہ وہ کوشش کریں گی۔مجھے افسوس کے ساتھ معلوم ہوا ہے کہ طالبات کی انگریزی کی طرف زیادہ توجہ ہے۔گو انگریزی کے ماسٹر (حضرت مولوی شیر علی صاحب) کہتے رہتے ہیں کہ عربی کی طرف زیادہ توجہ ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ انگریزی کی طرف زیادہ ہے شاہ صاحب کو اس کا بھی خیال رکھنا ہوگا تا کہ دوسرا فریق زیادہ توجہ نہ لے جائے۔میر انشاء ہے کہ اب سکول ٹائم زیادہ کر دیا جائے اور 1/4-1 گھنٹہ یا 1/2-1 گھنٹہ ہر استاد پڑھایا کرے۔اور گفتگو کرنے کی طرف توجہ دی جائے اگر موٹے موٹے فقرے بولنے لگیں تو ان کی توجہ خود بخود بڑھ جائے گی۔عربی یا تو قواعد کے ذریعہ آتی ہے یا پھر بولنے سے قواعد چونکہ مشکل ہیں اس لئے انہیں یاد کرتے ہوئے عام طور پر ہمت ٹوٹ جاتی ہے، اور انگریزی آسانی سے آسکتی ہے اس لئے اُدھر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔عربی مدرس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ طالبات کی ہمت نہ ٹوٹے۔میں نے خواتین سے عربی کے چھوٹے چھوٹے فقرے بنوائے مثلاً یہ کہ کاپی کہاں ہے، کتاب کہاں ہے، کتاب کس نے اٹھائی کی عربی بناؤ۔آئندہ گھر کی بول چال کھانے پینے کے متعلق فقرے اگر استعمال کرائے جائیں تو ان کے حوصلے بڑھ جائیں گے یا اور کئی طریق زبان سکھانے کے ہوشیار استاد نکال سکتا ہے۔سب سے ضروری بات یہی ہے کہ عربی کی طرف خاص توجہ ہو۔یوں تو سارے علوم ہی ضروری ہیں لیکن عربی کے ساتھ ہمارے مذہبی امور وابستہ ہیں اس لئے یہ سب سے ضروری ہے مگر عربی میں طالب علم جلدی ہمت ہار دیتے ہیں اور ابتدائی مشکلات کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ہم اسے حاصل نہیں کر سکیں گے۔حالانکہ یہ بہت تھوڑ اسا رستہ ہوتا ہے اسے اگر طے کر لیں تو پھر آسانی ہو جاتی ہے بشرطیکہ ارد گرد عربی بولنے والے ہوں۔اور اگر یہ نہ ہوں تو عالم بھی عربی بولنا جانتے ہیں۔طالبات کو ابتدائی مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ کوشش کرنی چاہیئے کہ اس مقام پر پہنچ سکیں کہ زبان دان کہلا سکیں۔اور آسانی سے علمی کتابیں پڑھ سکیں۔میں اس نصیحت کے ساتھ اس تقریر کوختم کرتا ہوں۔امید ہے شاہ صاحب بھی اس بات کی کوشش کریں گے کہ جو خواتین تعلیم میں کمزور ہیں وہ دیکھے نہ ر ہیں۔اور خواتین بھی اس وجہ سے کہ کوئی استاد توجہ نہیں کرتا اس کے مضمون میں سستی نہ کریں گی۔شرافت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیئے یا درکھو ہمارے سامنے اتنا عظیم الشان مقصد ہے کہ جس کے پورا کرنے کے لئے مردوں اور عورتوں سب کو مل کر کام کرنا چاہیئے۔عورتوں میں کام کرنے کا کچا جذ بہ ہوتا ہے مگر وہ ہمت جلدی ہار دیتی ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ استقلال کے