اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 193
193 پیش ہوا اُس نے اپنے آپ کو ولی عہد سمجھ کر مجسٹریٹ سے گستاخی کی۔اس پر مجسٹریٹ نے سزا دے دی۔آخر جب بادشاہ مرا اور ہنری خود بادشاہ ہوا تو اُسنے مجسٹریٹ کو بلایا مجسٹریٹ ڈرا کہ نہ معلوم مجھ سے کیا سلوک کرے گا مگر اُس نے بلا کر کہا اس واقعہ کا مجھ پر ایسا اثر ہے کہ میں آپ کو اپنی حکومت میں سب سے بڑا حج بناتا ہوں۔اُس وقت میں اگر قانون کی پابندی نہ کرنا سیکھتا تو آج بادشاہ نہ بن سکتا۔تو بعض باتیں تکلیف دہ ہوتی ہیں مگر اُن کے نتائج اچھے نکلتے ہیں۔خواتین کو اس قسم کی باتوں سے ہمت نہیں ہارنا چاہیئے اور تکلیف برداشت کرتے ہوئے علمی ترقی کرنی چاہیئے۔اُستادوں کو نصیحت اُستادوں کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہیئے کہ تمام طالبات میں ایک قسم کی ہم آہنگی ہو میں امید کرتا ہوں شاہ صاحب اس بات کو مد نظر رکھیں گے۔بعض لڑکیاں جو ہوشیار اور ذہین ہوں وہ جلدی ترقی کر جاتی ہیں۔مگر جب جماعت بنائی جائے تو ضروری ہے کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جو کمزور ہوں ان کو بھی ترقی حاصل ہو۔اور اس کا طریق یہی ہے کہ اُن سے زیادہ سوال پوچھے جائیں اور ان کا زیادہ خیال رکھا جائے۔میرے نزدیک اس بات کی ضرورت ہے کہ ہر ایک سے سوال کئے جائیں اور ہر ایک کو مجبور کیا جائے کہ جواب دے۔مجھے یہ معلوم کر کے حیرت ہوئی کہ میری لڑکی نے کبھی سوال کا جواب نہ دیا تھا۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اُسے بلا کر سختی سے کہا کہ ضرور جواب دینا چاہیئے۔شاہ صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ جو خواتین نہ بولتی ہوں انہیں بلوا ئیں اور جو پڑھائی میں کمزور ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ کریں۔میں نے صورتوں میں یہ خوبی دیکھی ہے کہ وہ کمی کو بہت جلد پورا کر لیتی ہیں اگر ان کی طرف خیال رکھا جائے۔پھر ایک اور بات جس کا خیال رکھنا چاہیئے یہ ہے کہ خواتین کو علم کے استعمال کی ضرورت پڑے۔ہمارے لئے صرف نحو ایک ایسا حصہ ہے کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اب کے کورس میں رکھ دیا ہے۔طالبات عموماً کوشش کرتی ہیں کہ غیر زبان بولنے سے پیچھے ہیں لیکن اگر شاہ صاحب عربی پڑھاتے ہوئے مجبور کریں گے کہ عربی میں جواب دیں تو امید ہے عربی میں جواب دینے لگ جائیں گی۔اب ان کی تعلیم اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان سے باتیں کرائی جائیں۔میں اس سال خواتین کی پڑھائی کے لئے زیادہ وقت نہیں دے سکا امید ہے کہ شاہ صاحب اس کمی کو پورا کریں گے اور طالبات سے بھی امید