اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 191
191 ہوتی ہے۔خصوصاً اُن پودوں سے جن کے متعلق اُسے خیال ہوتا ہے کہ ہمیشہ اس کے ذکر خیر کو جاری رکھ سکیں گے۔جولوگ درخت بھی اپنے ہاتھ سے لگاتے ہیں وہ انہیں پیارے ہوتے ہیں حتی کہ جب اُن کے درخت بعض حادثات یا دشمنوں کے ذریعہ کائے جاتے ہیں تو وہ روتے ہیں حالانکہ درخت بول نہیں سکتا اور ذکر خیر کو زبان کے ذریعہ جاری نہیں رکھ سکتا۔گو درخت سے فائدہ اُٹھانیوالے کہہ دیا کرتے ہیں کہ جس نے لگایا خدا اس کا بھلا کرے لیکن ایسے درخت جو علمی درخت ہوتے ہیں جو زبان رکھتے ہیں اور جن سے ذکر خیر قائم رہتا ہے ان سے دوسرے درختوں کی نسبت بدرجہا زیادہ تعلق ہوتا ہے اس وجہ سے مجھے مدرسہ خواتین سے خاص طور پر محبت ہے اور میں اس مدرسہ کے لئے تڑپ رکھتا ہوں کہ جس غرض کے لئے جاری کیا گیا ہے وہ پوری ہو۔یعنی ایسی استانیاں تیار ہوں جو اعلے نسلوں کی تربیت کا اعلے نمونہ پیش کر سکیں اور ہمارے مدرسہ کی نکلی ہوئی طالبات باقی تمام طالبات کو مات کر دیں۔اسی محبت اور تعلق کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں مجھے حق ہے کہ مدرسہ کے متعلق ایسی ہدایات یا نصائح جو مفید ہو سکتی ہوں دوں۔مجھے اس بات پر نہایت خوشی ہے کہ طالبات اپنے فرائض کے ساتھ انس اور محبت رکھتی ہیں اور اس بات کو بجھتی ہیں کہ تعلیم کے ذریعہ ان کی علمی اور روحانی ترقی ہوگی اور وہ جماعت کے لئے مفید بن سکیں گی۔لیکن خالی احساس کام ہو جانے کے مساوی نہیں ہو جایا کرتا۔کیسی ہی تڑپ ہو کتنی ہی خواہش ہو جب تک صحیح ذرائع حاصل نہ ہوں اور اُن پر عمل نہ کیا جاسکے اُس وقت تک کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔دیکھو اگر کوئی سردی کے موسم میں ساری رات کنویں سے پانی نکالنے کی مشقت برداشت کرے تو اس طرح روٹی نہ پک جائے گی۔کیوں ؟ اس لئے کہ خدا تعالے نے روٹی پکنے کے لئے جو قانون مقرر کیا ہے اس کی اتباع نہیں کی گئی۔میرے نزدیک ہماری غرض تبھی پوری ہو سکتی ہے جب ان اصولوں کے ماتحت عمل کیا جائے جو اس کام کے مفاد کے ساتھ وابستہ کئے گئے ہیں۔آواز میں قوت اور شوکت ہونی چاہیئے میں سمجھتا ہوں سب سے اہم بات جس کی ان لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ لڑکیوں اور خواتین کی آواز بلند ہو۔اس میں نرمی اور ہچکچاہٹ نہ ہو دلیری، ارادہ اور قوت پائی جائے۔میرے نزدیک ہماری عورتیں کوئی کام کرنے میں اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک اُن کی