اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 187

187 سکیں جب تک یہ فیصلہ نہ ہو جائے کہ نہ ان کی شادی ہوگی اور نہ بیچے جنیں گی۔پس جب یورپ کی عورتیں انتہائی تعلیم پا کر بھی زیادہ تر گھر ہی کام کرتی ہیں تو معلوم ہو اعورتوں کی تعلیم کا جزو اعظم تربیت اولا د اور گھر کا کام ہی ہے۔اِس کا یہ مطلب نہیں کہ بچوں کے کپڑے سینا اور پہنانا ہی عورتوں کا کام ہے بلکہ بچوں کو تعلیم دینا بھی ان کا فرض ہے۔اس کے علاوہ بچہ کی مذہبی تعلیم ، امور خانہ داری کا انتظام یعنی حساب کتاب رکھنا، بصحت کا خیال رکھنا ، خوراک کے متعلق ضروری معلومات ہونا ، اوقات کی پابندی کا خیال رکھنا ، یہ جاننا کہ سونے جاگنے، اندھیرے روشنی وغیرہ کا صحت پر کیا اثر ہوتا ہے کیونکہ عورت نے بچہ کے متعلق ان باتوں کو اس وقت کرنا ہے جس وقت کے اثرات ساری عمر کی کوششوں سے دُور نہیں کئے جاسکتے۔مگر ہماری عورتیں ابھی اِن باتوں کے متعلق کچھ نہیں جانتیں۔تعلیمیافتہ عورتوں کی ضروت اس کے لئے سب سے پہلی چیز جو ضروری ہے وہ تعلیم یافتہ عورتوں کا میسر آتا ہے اور سیاسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ پہلے استاد عورتیں میسر آجائیں۔مردوں کے ذریعہ لڑکیوں کو ایک عرصہ تک تو تعلیم دی جاسکتی ہے زیادہ عمر تک نہیں دی جاسکتی کیونکہ قدرتی طور پر رسم و رواج کے لحاظ سے لڑکی جب جوانی کی عمر کو پہنچتی ہے تو اس میں ایک حد تک حیا پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے جسے یورپ میں ضروری نہیں سمجھا جاتا لیکن ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔آب ادھر لڑکی میں اس کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے اور ادھر مر د استادا سے پڑھانے والا ہو تو اس کے جذبات اور احساسات دب جائیں گے کیونکہ وہ اس عمر کی امنگیں اور جذبات کا اظہار نہ کر سکے گی جو صورت استاد ہونے پر اس کے سامنے کر سکتی تھی۔ہمیں لڑکیوں کے لئے ایسے استادوں کی ضرورت ہے جو موقع اور محل پر سنجیدگی اور متانت سے بھی کام لیتے ہوں لیکن انہیں جنسی بھی آسکتی ہو، کھیل کود میں بھی حصہ لے سکیں اور ان میں خوش طبیعی پیدا کر سکیں۔یہ باتیں ہم مردوں کے ذریعہ لڑکیوں میں پیدا نہیں کر سکتے کیونکہ مردوں کے ذریعہ یا تو ان میں وہ باتیں پیدا ہو جائیں گی جنہیں ہم پیدا نہیں کرنا چاہتے اور جن کے پیدا کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔یا وہ مردہ ہو جائیں گی۔ان میں زندگی کی روح باقی نہ رہے گی اس لئے ضروری ہے کہ لڑکیوں کے لئے عورتیں استاد مہیا کی جائیں۔جن عورتوں کی پڑھائی کا علیحدہ انتظام کیا گیا ہے وہ دراصل استانیاں ہیں نہ کہ طالبات۔ان میں زیادہ