اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 184

184 وہان جوش آئے گا اور نہ ٹھنڈ ہی ہوگی۔یعنی نہ ہی جوش کم ہو جائے گا ایک ہی رنگ ہوگا۔قرآن کریم کا کمال دیکھو قرآن کریم کی تعلیم کیا پر حکمت ہے۔قرآن کریم نے دوزخ کے عذاب میں بتلا دیا کہ وہاں سردی کا بھی عذاب ہوگا اور گرمی کا بھی۔سرد ملک کے لوگوں کو سردی کے عذاب سے ڈرایا ہے اور گرم ملکوں کے لوگوں کو گرمی سے۔بعض ملک اس قدر برفانی ہیں کہ وہاں کے لوگ برف ہی کے مکان بنا لیتے ہیں۔وہاں پر اگر کسی کو پانی پینا ہوتا ہے تو برف کو رگڑ رگڑ کر پانی بناتے ہیں۔وہاں آگ ایک نعمت سمجھی جاتی ہے۔چونکہ انجیل میں صرف آگ کے عذاب کا ہی ذکر ہے اس لئے جب اس برفانی ملک میں ایک پادری گیا اور وہاں جا کر عیسائیت کی تبلیغ کی اور کہا اگر تم نہ مانو گے تو خدا تم کو آگ میں ڈالے گا تو وہ لوگ سنکر بہت خوش ہوئے کہ او ہو ہم آگ میں ڈالے جائیں گے کیونکہ آگ اُن کے لئے نعمت تھی۔اس طرح جب پادریوں نے دیکھا کہ یہ آگ سے نہیں ڈرتے تو انہوں نے ایک کمیٹی کی اور کہا کہ آگ کی جگہ برف کا عذاب لکھ دو۔مگر قرآنِ شریف میں کسی انسانی دخل کی ضرورت نہیں ہے۔اس میں برف کا عذاب موجود ہے اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں۔پھر فرماتا ہے وَدَانِيَّةٌ عَلَيْهِمْ ظِلَلُهَا وَذُلِلَتْ قُطُوْ فُهَا تَذْلِيْلًا۔وہاں سائے جھکے ہوئے ہوں گے اور وہاں ہر قسم کے کھانے ہوں گے۔بہشت میں چھوٹے بچے حضور نے اسی طرح دیگر آیات کی تفسیر فرماتے ہوئے اس آیت کے متعلق کہ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْتُورًا۔فرمایا آب یہ عورتوں کے متعلق ہے اور عورتیں خوش ہوں گی کہ انکے آگے جو بچے پھریں گے وہ وہی ہوں گے جو اُن کے مرجاتے ہیں۔وہ خوبصورت موتیوں کی طرح ہوں گے۔وہ ہمیشہ ایک ہی سے رہیں گے۔اس دنیا میں تو بچہ بیمار ہو جاتا ہے، بعض دفعہ اس کی شکل بگڑ جاتی ہے، پھر کوئی بچہ ذہین ہوتا ہے کوئی کند ذہن ہوتا ہے مگر وہاں سب بچے ایک سے ہوں گے گویا موتی بکھرے ہوئے ہوں گے۔