اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 169

169 میرے نزدیک بچوں کے لئے گوشت کھانے کی کثرت بھی ان کے عدم استقلال کا موجب ہو جاتی ہے کیونکہ اُن کی ہڈیاں ابھی کمزور ہی ہوتی ہیں کہ ضرورت سے پہلے اُن کے اعضاء تناسل اور قومی شہوانیہ جوش میں آجاتے ہیں اس لئے بچوں کے واسطے سبزیاں اور ترکاریاں زیادہ مفید ہوتی ہیں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو گوشت بالکل ہی نہ دیا جائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کثرت اُن کے حق میں مضر ہے۔الا ماشاء اللہ۔کیونکہ بعض بچے جن کی چھاتی کمزور ہوتی ہے اُن کے لئے یا جن کے متعلق ڈاکٹری مشورہ ہو ان کو گوشت کھلانا ضروری ہوتا ہے مگر عام حالتوں میں بچوں کے لئے سبزی ہی زیادہ مفید ہوتی ہے۔دنیا میں اخلاق کی درستی دو طرح سے ہوتی ہے۔ایک تو ایمان کے ذریعہ سے کہ جس وقت اس سے کوئی بد اخلاقی سرزد ہوتی ہے ایمان کی وجہ سے وہ فورا چوکس اور ہوشیار ہو جاتا ہے گویا سوتا تھا پھر یکلخت جاگ اُٹھتا ہے۔اور ایک اخلاق کی درستی عادت کی وجہ سے ہوتی ہے اور عادت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک عادت وہ ہوتی ہے جو اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہے اور ایک عادت وہ ہوتی ہے جو اپنی ذات میں بُری ہوتی ہے۔اور پھر جو عادت اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہے اس سے اور اچھی عادتیں پیدا ہوتی ہیں جو اپنی ذات میں بُری ہوتی ہے اُس سے اور بُری عادتیں پیدا ہوتی ہیں پس وہ اچھی اور نیک عادت کو جس سے اور بھی اچھی اور نیک عادتیں پیدا ہوتی ہیں انسان طبعا اس کی بیچ اور عزت کرتا ہے۔۔جب وہ اپنے آپ کو اس نیک عادت کی طرف منسوب سمجھتا ہے تو اس کی غیرت اس کے خلاف کرتے ہوئے اس کو ملامت کرتی ہے اور وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنا سائن بورڈ درست رکھے۔ایک شخص جس نے سائن بورڈ تو یہ لگایا ہوا ہو کہ اس دوکان پر کوٹ فروخت ہوتے ہیں لیکن اندر اسے چاول ڈال رکھے ہوں تو جب کوئی بوٹوں کا گاہک آئے گا دکان میں چاول دیکھ کر اُسے ملامت کرے گا اور وہ کچھ جواب نہ دے سکے گا۔کیونکہ بوٹوں اور چاولوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ اس کے لئے بحث کرنے اور تو جیبین بیان کرنے کی کوئی گنجائش نہیں لہذا اس کو خاموشی کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ہاں اگر چاولوں کا اُس نے بورڈ لگایا ہوا ہوتا تو موٹے یا بار یک چاولوں کی بحث بھی ہو سکتی تھی۔تو بعض باتیں اتنی موٹی اور ایسی واضح اور گھلی ہوتی ہیں کہ جن کے متعلق بحث کا کوئی موقع ہی نہیں ہوتا۔مثلاً اگر شریعت میں نماز با جماعت ادا کرنے کا حکم نہ ہوتا تو ایک بے نماز کو یہ بحث کرنے کا موقع مل سکتا تھا کہ میں تو گھر پر نماز پڑھ لیتا ہوں۔لیکن