اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 123

123 تحریک کو سنکر پیچھے ہمتیں عجیب نظارہ نظر آیا اور وہ یہ کہ اس تحریک پر اس وقت تک گیارہ عورتیں احمدیت میں داخل ہو چکی ہیں تا کہ وہ بھی اس چندہ میں شامل ہو سکیں۔یہ خبر اس وقت تک آچکی ہے اوروں کا پتہ نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتیں پہلے ہی احمدی تھیں، کوئی اس لئے مذہب نہیں بدلا کرتا کہ چندہ دے، وہ پہلے احمدی تھیں مگر اُن میں احمدیت کے اظہار کی جرات نہ تھی۔اب انہوں نے دیکھا کہ اگر اب بھی جرات نہ کی تو اس ثواب سے محروم رہ جائیں گی۔گویا اس طرح اس تحریک نے گیارہ روحوں کو ہلاکت سے بچالیا اور یہ پہلا پھل ہے جو اس تحریک سے ہم نے چکھا ہے کہ گیارہ روحیں ہلاکت سے بچ گئی ہیں۔ایک مثل مشہور ہے اور وہی بات یہاں بن جاتی ہے۔کہتے ہیں ایک بادشاہ گزر رہا تھا اسنے دیکھا ایک بوڑھا ۸۰-۹۰ سال کی عمر کا درخت لگارہا ہے۔وہ درخت کوئی اس قسم کا تھا جو لمبے عرصہ کے بعد پھل دیتا ہے۔بادشاہ نے اس بوڑھے کو کہا کہ یہ درخت تو بہت عرصہ کے بعد پھل دے گا تم اس سے کیا فائدہ اُٹھا سکو گے۔بڑھے نے کہا بادشاہ سلامت بات یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا نے درخت لگائے جن سے ہم نے پھل کھائے اب ہم درخت لگاتے ہیں جن سے آئندہ آنیوالے پھل کھائیں گے۔بادشاہ نے یہ سنکر کہا۔زہ۔یعنی کیا خوب بات کہی ہے، اور اس کا حکم تھا کہ جس کی بات پر میں زہ کہوں اُسے چار ہزار روپیہ دینا چاہیئے۔جب بادشاہ نے یہ کہا تو چار ہزار کی تھیلی اُسے دے دی گئی۔بڑھے نے تھیلی ہاتھ میں لے کر کہا۔بادشاہ سلامت آپ کہتے تھے کہ تو اس درخت کا پھل کب کھائے گا۔لوگوں کے درخت تو دیر کے بعد پھل دیتے ہیں میرے درخت نے لگاتے لگاتے پھل دے دئے۔بادشاہ نے پھر کہا۔زہ۔اور خزانچی نے چار ہزار کی اور تھیلی اُسے دیدی۔بڈھے نے دوسری تحصیلی لے کر کہا۔بادشاہ سلامت لوگوں کے درخت تو سال میں ایک دفعہ پھل دیتے ہیں میرے درخت نے بیٹھے بیٹھے دو دفعہ پھل دے دئے۔بادشاہ نے پھر کیا۔ہو۔اور تیسری تھیلی اُسے دی گئی۔اس پر بادشاہ نے کہا یہ بڑھا تو ہمیں کوٹ لے گا چلو یہاں سے چلیں اور روانہ ہو گیا۔مسجد برلن کے متعلق بھی زہ والی ہی مثال ہے۔لوگوں کی مسجد میں تو اس لئے بنتی ہیں کہ جو ایمان لے آئے ہیں وہ نمازیں پڑھیں مگر ہماری مسجدوں کی تحریکوں سے ہی لوگ ایمان لے آتے ہیں۔یہ درخت کا پھل ہے جو بتاتا ہے کہ یہ درخت کس قسم کی خوبیاں رکھتا ہے۔پھل سے ہی درخت کی خوبی معلوم ہوتی ہے۔اور اس درخت کے پھل نے بتا دیا ہے کہ یہ بہت اعلے ثمرات رکھتا ہے۔دیکھو جس درخت کو لگاتے ہوئے