اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 114

114 اب آپ کو خوب بتاتے ہوں گے مجھ کو بتا دو۔میں نے بہت سمجھایا مگر میں نے دیکھا کہ اُس کو اثر نہ ہوا۔( ۸۰ ) اسیوال علم اس علم میں یہ بحث ہوتی ہے کہ کیسی کیسی اقوام کے اجتماع سے اولاد ہوتی ہے۔بغیر نر و مادہ کے ملنے کے بھی اولاد ہوسکتی ہے یا نہیں۔اگر ہو سکتی ہے تو کس طرح ؟ اس علم کے ذریعہ یہ ثابت ہوا کہ نر و مادہ کے ملنے کے بغیر بھی اولا د ہوسکتی ہے۔(۸۱) اکیا سیواں جانوروں کے پالنے کا علم ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ مُرغی گائے بھینس وغیرہ کے پالنے کے کیا طریق ہیں۔کیا خوراک دی جائے جس سے وہ موٹی ہوں یا دودھ زیادہ دیں یا اولا دا تھی ہو۔اس علم میں مختلف طریقوں پر بحث ہوگی اور تجارتی اصولوں کو مد نظر رکھ کر بھی بحث ہوتی ہے۔(۸۲) بیا سیواں علم لائبریری کا علم ہے۔اس علم میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کوئی کرتا ہیں اکٹھی رکھنی چاہئیں۔یہ ایک مستقل علم ہے۔بعض کتا ہیں مختلف علوم سے تعلق رکھتی ہیں۔اس علم نے تقسیم کر دیا ہے کہ کس کتاب کو کس علم میں رکھا جائے اور یہ بھی اس میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح کوئی کتاب آسانی سے نکالی جا سکتی ہے۔یہ علوم کی ایک فہرست ہے۔اب ان علوم کے متعلق مضامین سُننے ہیں۔تم خود غور کرو میں بھی بتاؤں گا۔احمدی مستورات سے خطاب ) خطبه جمعه فرموده ۲ - فروری ۱۹۲۳ء دین کے معاملہ میں مساوات تعوذ تشہد اور سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔دنیاوی معاملہ میں جس طرح کہ یورپین ، امریکن ، افریقن، ایشیائی ، لوگ برابر ہیں اور جس طرح کہ ہر رنگ ، ہر زبان ، ہر ملک وملت کے ساتھ تعلق رکھنے والے کو ایک نظر سے دیکھنے کا حکم ہے اس طرح دین کے معاملہ میں عورت و مرد مساوات رکھتے ہیں۔یعنی جس طرح دینی احکام مردوں کے لئے نازل ہوئے ہیں اسی طرح عورتوں کے لئے بھی نازل ہوئے ہیں۔سورۂ فاتحہ جو جڑہ ہے قرآن کریم کی اور جو كه گويا ايك