اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 93

نے پیدا کئے۔93 قومی تاریخ میں اس کا بیان ہوگا کہ وہ قوم جس کی وہ تاریخ ہے کہاں سے نکلی اور اس میں کیا قبائل تھے۔اس کی کیا تقسیم ہے۔کہاں کہاں پھیلی اور اس کے حالات میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں۔جنگی تاریخ میں اس امر کا بیان ہو گا کہ جنگی حیثیت سے اس قوم میں کیا تغیرات آئے۔یہ حصہ تاریخ کا سیاسی تاریخ سے بالکل الگ ہے۔سیاسی میں انتظامی امور پر بحث ہوتی ہے۔جنگی میں اس قسم کی شجاعت، بزدلی اور فنون جنگ سے واقفیت یا عدم واقفیت اور جنگی ضروریات میں ایجادات اور سامان حرب کی حیثیتوں پر بحث ہوگی۔پھر اس تاریخ کے علم کے ساتھ بعض اور علوم بھی تعلق رکھتے ہیں۔وہ گو یا علم التواریخ کی شاخیں ہیں۔چنانچہ دوسرا علم اس کا جو تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔وہ فلسفہ تاریخ ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی تاریخ جولکھی جائے اس میں کیا قوانین مد نظر ہوں۔یا تاریخ کے کیا فوائد ہیں، تاریخ نویسی کے کیا اصول ہیں ، اور مؤرخ کو کن باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔ایسا ہی تاریخ نویسی کے فن کی تدریجی ترقیوں اور حالات پر بحث ہوگی۔تیسر اعلم جو اس کی شاخ ہے وہ ذرائع تاریخ ہے۔اس میں یہ باتیں بھی داخل ہوتی ہیں کہ کسی ملک یا قوم کی صنعتوں اور روایات سے پتہ لگاتے ہیں، ایسا ہی اس قوم کے مذہب اور عقائد اور رسومات سے بھی پتہ لگاتے ہیں۔غرض مؤرخ ذرائع اور اسباب سے تاریخ کا پتہ لگاتے ہیں۔(۲۵) پچیوں علم جغرافیہ ہے۔جغرافیہ کا علم زمانہ کے موجودہ نقشہ پر بحث کرتا ہے۔کہاں دریا میں کہاں پہاڑ ہیں۔جغرافیہ کی پانچ قسمیں ہیں۔ایک مدتی ہوتی ہے جس میں شہروں کی نسبت بیان ہوتا ہے۔ایک سیاسی جغرافیہ ہے اس میں اس بات پر بحث ہوگی کہ کسی پہاڑ، دریا یا شہر کی سیاسی حیثیت کیا ہے، اردگرد کے شہروں پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔اس سیاسی جغرافیہ میں اس امر پر بھی بحث ہوتی ہے کہ کسی ملک پر کس قوم کا قبضہ ہے اور کس حد تک سیاسی حالات اس کے موافق ہیں یا مخالف ہیں۔ایک تجارتی جغرافیہ ہوتا ہے۔اس میں یہ بتایا جاتا ہے کس ملک میں کیا کیا چیزیں ہوتی ہیں اور ان چیزوں کا نکاس کس طرح ہوتا ہے اور وہاں دوسرے ممالک سے کیا کیا چیزیں آتی ہیں اور کہاں کہاں سے آتی ہیں جیسے مثلاً ہندوستان میں گیہوں اور روئی ہوتی ہے اور یہ گیہوں اور روئی یورپ، امریکہ اور دوسرے ممالک میں جاتی ہے۔