اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 89

89 چاہیئے۔پھر جسم کے خاص اعضاء پر کس کس قسم کی اغذیہ اپنا خاص اثر ڈالتی ہیں۔مثلا دماغ کی کمزوری یا دل کی کمزوری میں کیا استعمال کرنا چاہیئے۔معدہ کمزور ہو تو کیا کھانا چاہیئے۔یہ بہت بڑی تفصیل ہے اور اس کا ذکر اور بیان اس علم میں ہوتا ہے۔اور اس میں ان اشیا کا ذکر آتا ہے کہ پینے کے قابل کیا کیا چیزیں ہیں۔تندرستی میں کیا اور بیماری میں کیا اور پھر مختلف بیماریوں میں مختلف قسم کے شربت یا عرق دیئے جاتے ہیں۔بہت کی بیماریوں میں بعض چشموں کے پانی مفید ہوتے ہیں اور ایسے ہی بعض تیل جیسے مچھلی کا تیل وغیرہ۔غرض اس علم میں بہت بڑی تفصیل ہے اور یہ تندرستی اور بیماری اور مختلف ملکوں کی اشیاء خوردنی اور نوشیدنی کے علم پر حاوی ہے۔سینے پرونے اور کھانا پکانے کے علوم (۱۸) اٹھارواں علم وہ ہے جو سینے پرونے سے تعلق رکھتا ہے اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ کپڑے اور فیتہ کوکس طرح لگایا جائے کہ اُس کا خاص اثر دیکھنے والے پر ہوتا ہے۔یورپ نے اس فن میں بہت ترقی کی ہے اور اُس کے لئے با قاعدہ سکول اور کالج بنائے ہیں۔جہاں کے تعلیم یافتہ اور اس فن کے صاحب کمال بعض اوقات ہزار ہزار دو دو ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پاتے ہیں۔علم الالوان یعنی رنگوں کا علم در اصل اس میں داخل ہے۔کسی رنگ کے ساتھ کسی قسم کا فیتہ لگانا ہے کون سی جگہ اونچی ہو اور کہاں کس قسم کی شکل رکھنی چاہیئے۔فرض اس فن کو بہت وسعت دی گئی ہے۔(۱۹) انیسواں علم جو اس کا حصہ ہے وہ کاٹنے کا فن ہے اس کے بھی الگ کالج ہیں اور آج یہ علم بہت ترقی کر گیا ہے یعنی کپڑا کا نا کس طرح جاتا ہے۔کس قسم کی کاٹ زیادہ خوبصورت ہوسکتی ہے اور کس طرح کاٹنے سے کپڑا کم خرچ ہو یا ضائع نہ ہو۔(۲۰) بیسواں علم کھانا پکانے کا علم ہے۔اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آٹا گوندھ کر پکا لیا بلکہ جب کہ اُس کو عملی شکل دی جاتی ہے تو اُس میں بہت سی باتیں داخل ہوتی ہیں اور اس میں یہ طبعی باتوں کو اپنے اندر رکھتا ہے اس علم کے ماہر کو علم الاغذ یہ والا شعر بہ کا ماہر ہوتا بھی ضروری ہے وہ دیکھے گا کہ کس حد تک ایک چیز کو گلا نا چاہیئے جو صحت کے لئے مفید ہو ہضم میں محمد ہو ، غذائیت پیدا کرنے میں کارآمد ہو۔پھر جہاں ایک طرف اسے طبی پہلو کو مد نظر رکھنا ہے دوسری طرف زبان اور ذائقہ کے پہلو کو بھی زیر نظر رکھنا ہے۔کون کون