اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 65
65 مختلف مذاہب میں تین اصول ہیں جن پر اختلاف ہوا ہے۔اوّل انسان کس طرح دُنیا میں آیا ؟ دوم کس فرض کے لئے دنیا میں آیا ؟ سوم اس بات پر کہ کہاں جائے گا؟ یہی تین باتیں ہیں جن کی وجہ سے اختلاف ہوا اور مختلف مذاہب پیدا ہو گئے۔ان ہر سہ امور کے متعلق جس قدر مسائل ہیں ہم ان سے گرد چکر لگائیں گے۔اشتراک مذاہب نے علوم کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک اور سوال بھی۔۔۔۔۔۔۔۔مد نظر رکھنا چاہیئے کہ مذاہب کا باہم کس حد تک اشتراک ہے یعنی وہ کن باتوں میں باہم ملتے ہیں اور کن خیالات کے دائرہ کے اندر وہ پیدا ہوئے ہیں؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا ہے کہ اس زمانہ کے لوگ مذاہب سے الگ ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہ جھوٹ ہے اس فرض کے لئے انہوں نے یہ خیال نکالا ہے کہ کن باتوں میں مذاہب ملتے ہیں اور کن باتوں میں اختلاف ہے ؟ پھران دو باتوں کو مد نظر رکھ کر وہ کہتے ہیں کہ ان کے باہر سے آنے کی ضرورت نہیں یہ اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے الہام کی ضرورت نہیں۔پہلی بات کے متعلق کہ کن باتوں میں ملتے ہیں وہ ان کو مشترک سچائیاں کہ کر الہام کی ضرورت کا انکار کرتے ہیں۔اور دوسرا حصہ کہ کن دائروں کے اندروہ خیالات پیدا ہوئے ہیں۔اس کے متعلق وہ ہر قسم اور ملک کی پہلی حالت کو لیتے ہیں اور پھر اُن کے مذاہب کو لیتے ہیں اور قرار دیتے ہیں کہ ان خیالات کا نتیجہ ہے اور اس طرح پر کہتے ہیں کہ خدا تعالے کی طرف سے آیا ہوا نہ ہب نہیں۔یہ جدید تحقیقات مذاہب کے علم کے متعلق ہے اور اس علم کو موازنہ مذاہب یا کمپیر ٹیوریلیجن کہتے ہیں۔یہ اصول علوم ہیں مذاہب کے متعلق۔مذہب اسلام تفصیلی طور پر مذہبی علوم یہ ہیں کہ (۱) ایک علم اسلام کا ہے۔اسلام مذاہب میں سے ایک مذہب ہے۔پس انسان اس کی تحقیقات کرے۔مذہب یچی (۲) دوسرا مذہب مسیحیت ہے۔جب تحقیقات مذاہب ہوگی تو یہ سوال ہوگا کہ مسیحیت کیا سیجی ہے؟ جب علمی تحقیقات ہو گی تو اس کے فرقوں کو دیکھنا ہوگا۔اس کے چار بڑے فرقے اصول کے لحاظ سے ہیں:۔اول۔رومن کیتھولک :۔ان کا عقیدہ یہ ہے کہ علیہ السلام کے خلیفہ پیر (پطرس ) تھے۔پطرس حضرت مسیح علیہ السلام کے حواری اور خلیفہ تھے اس کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روم میں رہے۔وہ ( کیتھولک ) کہتے